ممتاز ادیب احمد نعیم ملک کی علمی کاوش، ندیم شاکر نظامی کی محبت اور حضرت شاکر نظامیؒ کی یادیں خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
ممتاز ادیب احمد نعیم ملک کی علمی کاوش، ندیم شاکر نظامی کی محبت اور حضرت شاکر نظامیؒ کی یادیں
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
علم و ادب کی دنیا میں بعض ملاقاتیں محض رسمی نشست نہیں ہوتیں بلکہ وہ علم و دانش، تہذیبی شعور، تاریخی آگہی اور باہمی محبت کے ایسے خوبصورت امتزاج کی صورت اختیار کر لیتی ہیں جو دیر تک دل و دماغ پر اپنے نقوش ثبت رکھتا ہے۔ ایسی ملاقاتیں نہ صرف اہلِ علم کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہیں بلکہ علمی و ادبی روایات کے تسلسل اور فکری ورثے کی حفاظت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ معروف صحافی ندیم شاکر نظامی اور نامور دانشور، ادیب، محقق اور ڈائریکٹر انفارمیشن سرگودھا ڈویژن احمد نعیم ملک کی ملاقات بھی اسی خوبصورت روایت کی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔
حال ہی میں معروف صحافی اور روزنامہ نظامِ جمہوریت سرگودھا و لاہور کے چیف ایڈیٹر ندیم شاکر نظامی نے ڈائریکٹر انفارمیشن سرگودھا ڈویژن احمد نعیم ملک سے ان کے دفتر میں خصوصی ملاقات کی۔ اس موقع پر علمی، ادبی اور تاریخی موضوعات کے حوالے سے باہمی دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ ملاقات کی ایک اہم اور خوبصورت بات یہ تھی کہ احمد نعیم ملک نے اپنی تصنیف کردہ تاریخی کتاب ’’تاریخِ سکندر کا گمشدہ باب‘‘ بطورِ تحفہ ندیم شاکر نظامی کو پیش کی۔
ندیم شاکر نظامی نے اس علمی تحفے پر احمد نعیم ملک کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں اور بہترین خواہشات کا اظہار کیا۔ بلاشبہ کتاب کا تحفہ محض کاغذ کے چند اوراق کی پیشکش نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک صاحبِ علم کی فکر، تحقیق، مطالعے اور برسوں کی علمی محنت سے وابستہ ایک قیمتی سرمایہ دوسرے اہلِ علم تک منتقل کرنے کا خوبصورت ذریعہ بھی ہے۔
احمد نعیم ملک کی زیرِ تذکرہ تصنیف اپنے موضوعات کے اعتبار سے تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس کتاب میں آریہ تہذیب کے دورِ اوّل سے وابستہ قدیم شخصیات، ستر سے زائد قدیم ٹیلوں، کرانہ پہاڑی سلسلے کی تاریخی حیثیت اور کھوکھر، بھرت اور سوبھی قبائل جیسے موضوعات کو مستند تاریخی حوالوں کے ساتھ زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رِگ وید اور مہابھارت سے متعلق مباحث بھی کتاب کا حصہ ہیں۔
قدیم تہذیبوں، تاریخی مقامات، قبائلی شناختوں اور قدیم متون کا مطالعہ کسی بھی معاشرے کے ماضی کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بالخصوص سرگودھا اور اس کے گردونواح کی تاریخی و تہذیبی اہمیت کے تناظر میں ایسے موضوعات پر تحقیق کی اپنی خاص معنویت ہے۔ کرانہ پہاڑی سلسلہ اور خطے کے قدیم آثار اس وسیع تاریخی ورثے کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس کی بہتر تفہیم کے لیے مسلسل تحقیق، مستند حوالوں اور علمی مکالمے کی ضرورت رہتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ تاریخی تحقیق میں مختلف روایات، قدیم متون اور آثارِ قدیمہ سے حاصل ہونے والی معلومات کا تقابلی جائزہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسی تصانیف قارئین کو ماضی کے بارے میں سوالات اٹھانے، مختلف تاریخی بیانیوں کو سمجھنے اور اپنے خطے کے ورثے سے شناسائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ احمد نعیم ملک کی یہ تصنیف تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے مزید مطالعے اور تحقیق کا محرک ثابت ہوگی۔ یادرہے کہ
ندیم شاکر نظامی کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جن کی شناخت روزنامہ نظامِ جمہوریت سے وابستہ ہے۔ وہ اس اخبار کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اس اخبار کے بانی حضرت شاکر نظامی مرحوم تھے، جنہیں فخرِ سرگودھا ڈویژن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت اور صحافتی خدمات نے اپنے دور میں اہلِ صحافت کے لیے ایک نمایاں مثال قائم کی۔
صحافت محض خبروں کی اشاعت یا واقعات کی رپورٹنگ کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرے کی رہنمائی، عوامی مسائل کی نشاندہی، مثبت سرگرمیوں کی ترویج اور سچائی کی ترجمانی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس میدان میں وہی شخصیات دیرپا اثرات چھوڑتی ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ اصول پسندی، دیانت داری، محنت اور رہنمائی کے جذبے کو بھی اہمیت دیتی ہیں۔ حضرت شاکر نظامی مرحوم کی صحافتی زندگی کو یاد کرتے ہوئے ان روایات کی اہمیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔
اس ملاقات اور کتاب کے تحفے کی خبر نے راقم الحروف(راجہ نورالہی عاطف)کے ذہن میں اپنی صحافتی زندگی کی بعض یادوں کو بھی تازہ کر دیا۔ راقم کے لیے یہ بات ہمیشہ باعثِ افتخار رہے گی کہ مجھے قومی صحافت کی ایک قابلِ احترام شخصیت حضرت شاکر نظامی مرحوم کی رہنمائی اور شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔
جب حضرت شاکر نظامی ریڈیو پاکستان سرگودھا کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے تو اس دور میں مجھے اپنے علاقے سے ریڈیو پاکستان سرگودھا کے ساتھ بطورِ اعزازی رپورٹر وابستگی کا موقع حاصل تھا۔ اس وقت ہمارے نیوز انچارج محترم چوہدری ضمیر اشرف تھے۔ اسی صحافتی ماحول میں حضرت شاکر نظامی مرحوم سے سیکھنے اور اپنی رپورٹنگ میں بہتری لانے کے مواقع میسر آئے۔
حضرت شاکر نظامی نہایت اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ریڈیو رپورٹنگ کے حوالے سے وہ ہماری رہنمائی فرماتے، ہماری تحریروں اور رپورٹنگ کی اصلاح کرتے اور پیشہ ورانہ امور میں بہتر اندازِ کار اختیار کرنے کی طرف توجہ دلاتے تھے۔ ان کی رہنمائی کا انداز اس بات کی عکاسی کرتا تھا کہ وہ صحافت کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ خدمت سمجھتے تھے۔
صحافت کے ابتدائی مراحل میں کسی تجربہ کار اور صاحبِ بصیرت صحافی کی سرپرستی ایک بڑی نعمت ہوتی ہے۔ ایک استاد اپنے شاگرد کو صرف خبر لکھنے کا طریقہ نہیں سکھاتا بلکہ اسے خبر کی اہمیت، الفاظ کے درست انتخاب، معلومات کی صحت، ذمہ دارانہ طرزِ اظہار اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کا شعور بھی دیتا ہے۔ حضرت شاکر نظامی مرحوم کی رہنمائی میرے لیے اسی اعتبار سے ایک قیمتی سرمایہ ہے جسے میں آج بھی قدر و احترام سے یاد کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں غیرمعمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صحافت میں نمایاں مقام حاصل کیا اور اپنی شناخت قائم کی۔ ان جیسی شخصیات کی یادیں اس لیے بھی اہم ہوتی ہیں کہ ان کے تجربات اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت شاکر نظامی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
احمد نعیم ملک اور ندیم شاکر نظامی کی ملاقات ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ علم و ادب اور صحافت کے شعبوں سے وابستہ افراد کے درمیان رابطہ اور باہمی احترام کسی بھی معاشرے کی فکری ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ایک طرف محقق اور ادیب اپنی تحقیق و تصنیف کے ذریعے ماضی کے دریچے کھولتا ہے، تو دوسری طرف صحافی ان علمی و ادبی کاوشوں کو معاشرے کے وسیع حلقوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اہلِ قلم کی علمی خدمات کو مناسب پذیرائی دی جائے، نئی کتابوں اور تحقیقی کاموں کا تعارف عام کیا جائے اور نوجوان نسل میں مطالعے، تحقیق اور تاریخ سے دلچسپی پیدا کرنے کے لیے مثبت اقدامات کیے جائیں۔ ہماری تہذیبی شناخت اور تاریخی ورثہ اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب ہم اسے سمجھنے، پرکھنے اور مستند علمی بنیادوں پر آگے منتقل کرنے کی کوشش کریں۔
احمد نعیم ملک کی تصنیف ’’تاریخِ سکندر کا گمشدہ باب‘‘ کا ندیم شاکر نظامی کو تحفے میں پیش کیا جانا اسی علمی و ادبی تعلق کی ایک خوشگوار مثال ہے۔ اس ملاقات کی اہمیت صرف دو معروف شخصیات کے باہمی تبادلے تک محدود نہیں بلکہ یہ علم، تحقیق، صحافت اور استاد و شاگرد کے رشتے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
بطورِ صحافی میرے لیے یہ لمحہ ذاتی طور پر بھی خوشگوار ہے کہ اس موقع پر روزنامہ نظامِ جمہوریت کے بانی حضرت شاکر نظامی مرحوم کی یاد تازہ ہوئی، جن کی رہنمائی نے میری صحافتی تربیت میں اپنا حصہ ڈالا۔ زندگی میں حاصل ہونے والی ایسی رہنمائیاں انسان کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے اہلِ علم، محققین، ادیبوں اور صحافیوں کو اپنی صلاحیتیں مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ان کی علمی و ادبی خدمات کو قبولیت بخشے اور ہماری نئی نسل کو اپنے اسلاف کے علمی ورثے سے استفادہ کرنے کا جذبہ عطا فرمائے۔ آمین۔