سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) ریڈیو پاکستان سرگودھا سے نشر ہونے والے سٹی سروس کے مقبول
سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) ریڈیو پاکستان سرگودھا سے نشر ہونے والے سٹی سروس کے مقبول پروگرام ’’شاہین سرگودھا‘‘ میں معروف شاعر و ادیب چوہدری محمد زبیر بسراء کے نئے شعری مجموعے ’’چمن زارِ سخن‘‘ کی تقریبِ رونمائی کا اہتمام کیا گیا۔ پروگرام میں چوہدری محمد زبیر بسراء کے ادبی سفر، ابتدائی زندگی، شاعری سے گہری وابستگی، کالم نگاری اور ان کی تخلیقی کاوشوں کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
چوہدری محمد زبیر بسراء نے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ادبی سفر کے حوالے سے بتایا کہ انہیں ابتدائی عمر ہی سے شاعری کا شوق تھا۔ اس شوق کو عملی شکل دینے کے لیے انہیں مختلف مشکلات اور تلخ تجربات سے گزرنا پڑا، تاہم شعر و ادب سے وابستگی نے انہیں اپنے خیالات، احساسات اور مشاہدات کو تخلیقی انداز میں پیش کرنے کا حوصلہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’چمن زارِ سخن‘‘ ان کی برسوں کی محنت، مطالعے، مشاہدے اور تجربات کا نچوڑ ہے، جس میں زندگی کے مختلف رنگوں اور انسانی جذبات کو قطعات، نظموں اور غزلوں کی صورت میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
گفتگو کے دوران ان کی کالم نگاری اور اخبارات میں شائع ہونے والی تحریروں کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس حوالے سے ان کے ادبی ذوق، معاشرتی مشاہدے اور اظہارِ خیال کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ پروگرام میں اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ شاعری اور نثر دونوں اصناف کے ذریعے معاشرتی رویوں، انسانی احساسات اور زندگی کے تجربات کو مؤثر انداز میں قارئین اور سامعین تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان سرگودھا فریحہ کنول نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں، جب مادہ پرستی کے رجحانات نمایاں ہیں، شعر و ادب اور مثبت تخلیقی سرگرمیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ادب نہ صرف انسانی احساسات کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ معاشرے میں فکری بیداری، اخلاقی شعور اور مثبت اقدار کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پروگرام کے پروڈیوسر ڈاکٹر جمشید قادری نے شعری مجموعے ’’چمن زارِ سخن‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری محمد زبیر بسراء نے اس کتاب میں زندگی کے تلخ تجربات، حقیقتوں اور انسانی احساسات کو شعر و سخن کے مؤثر پیرائے میں پیش کیا ہے۔ ان کی تخلیقات میں روزمرہ زندگی کے مشاہدات اور تجربات کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے، جو قارئین کو مختلف موضوعات پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔
پروگرام کے اینکر سبطین بلوچ نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے مہمان سے ان کے ادبی سفر، تخلیقی تجربات اور کتاب کے پس منظر سے متعلق مختلف سوالات کیے۔ پروگرام میں براہِ راست ٹیلی فون کالز بھی شامل کی گئیں، جن کے ذریعے سامعین نے شرکت کی اور چوہدری محمد زبیر بسراء کے نئے شعری مجموعے کی اشاعت کو خوش آئند قرار دیا۔ سامعین کی اس دلچسپی نے ادبی موضوعات کے حوالے سے ریڈیو پاکستان کے کردار اور عوامی سطح پر شعر و ادب سے وابستگی کی اہمیت کو نمایاں کیا۔