اٹلی میں مقیم ہر پانچ میں سے تقریبا چار غیر ملکی شہری دس سال سے زیادہ عرصے سے یہاں رہ رہے ہیں۔
اٹلی میں مقیم ہر پانچ میں سے تقریبا چار غیر ملکی شہری دس سال سے زیادہ عرصے سے یہاں رہ رہے ہیں۔
یکم جنوری 2026 تک اٹلی میں قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی تعداد 55 لاکھ 59 ہزار 527 تھی۔
سیسلی(انٹرنیشنل ڈیسک)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق اطالوی اداروں کاریتاس اتالیانا اور فونداتسیونے میگرانتس کی جانب سے جاری کردہ 2026 کی امیگریشن رپورٹ کے مطابق، اٹلی میں مقیم ہر پانچ میں سے تقریباً چار غیر ملکی شہری دس سال سے زیادہ عرصے سے یہاں رہ رہے ہیں، جبکہ 67.4 فیصد تارکینِ وطن نے اپنی خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ ہمیشہ اٹلی میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یکم جنوری 2026 تک اٹلی میں قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی تعداد 55 لاکھ 59 ہزار 527 تھی، جو ملک کی مجموعی آبادی کا 9.4 فیصد بنتی ہے۔ ان میں رومانیہ، البانیہ اور مراکش سے تعلق رکھنے والے افراد نمایاں ہیں، تاہم بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور فلپائن سمیت ایشیائی ممالک کی برادریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک سال کے دوران غیر ملکی آبادی میں تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار افراد، یعنی 3.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی عرصے میں اطالوی آبادی میں تقریباً ایک لاکھ 89 ہزار افراد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال بیرونِ ملک سے تین لاکھ 83 ہزار سے زیادہ افراد اٹلی آئے، جبکہ تقریباً 35 ہزار افراد ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ اس طرح اٹلی کی آبادی میں کمی کے مقابلے میں امیگریشن ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی، یعنی 2013 سے 2023 کے دوران، اٹلی میں غیر ملکی آبادی میں 13 فیصد اضافہ ہوا، جو جرمنی کے 51 فیصد، اسپین کے 33 فیصد اور فرانس کے 18 فیصد اضافے کے مقابلے میں کم ہے۔ غیر ملکی آبادی کا ایک بڑا حصہ کام کرنے کی عمر میں ہے، جس سے اٹلی کو بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے اثرات کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے باوجود تارکینِ وطن کو تعلیم، روزگار اور معاشرتی انضمام کے حوالے سے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اٹلی میں تارکینِ وطن کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں تقریباً 30 فیصد ایسے ہیں جو نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ ملازمت کر رہے ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام میں شامل ہیں، جبکہ یورپی یونین میں یہ شرح 17 فیصد ہے۔ اسی طرح یورپی یونین سے باہر کے ممالک کے شہریوں میں غربت اور معاشرتی محرومی کے خطرے کی شرح اٹلی میں 48 سے 49 فیصد تک ہے، جبکہ اطالوی شہریوں میں یہ شرح 18.5 فیصد ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ تعلیم یافتہ تارکینِ وطن کی صلاحیتوں کا درست استعمال نہ ہونا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اٹلی میں یونیورسٹی کی ڈگری رکھنے والے 64 فیصد تارکینِ وطن ایسے کام کر رہے ہیں جن کے لیے ان کی اعلیٰ تعلیمی قابلیت ضروری نہیں، جبکہ یورپی یونین میں یہ اوسط 40 فیصد اور جرمنی میں 35 فیصد سے کم ہے۔ رپورٹ میں حکومتی اداروں کی جانب سے اہم اعداد و شمار کی عدم دستیابی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، خصوصاً وزارتِ داخلہ سے رہائشی اجازت ناموں اور وزارتِ تعلیم سے اسکولوں میں داخلوں کے متعلق معلومات نہ ملنے کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ غیر سرپرست غیر ملکی نابالغوں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے اور 2025 کے اختتام پر یہ تقریباً 17 ہزار رہ گئی، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 23 ہزار تھی۔ خاص طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو خاندانی مالی توقعات، لیبیا کے راستے خطرناک سفر اور غیر رسمی روزگار کے باعث تنہائی اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں شامل ایک سروے کے مطابق، تارکینِ وطن کے اٹلی میں مستقل رہنے کے فیصلے میں صرف معاشی عوامل اہم نہیں؛ تقریباً 50.9 فیصد کے لیے مقامی معاشرے میں قبولیت اور اطمینان، 20.9 فیصد کے لیے خاندانی فیصلے اور 16.3 فیصد کے لیے دوستوں، سماجی تنظیموں اور مدد فراہم کرنے والے حلقوں کی موجودگی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ رپورٹ میں مذہبی زندگی میں بھی غیر ملکی شہریوں کی خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اٹلی کے مختلف مذہبی علاقوں میں غیر ملکی شہریت رکھنے والے 2,944 پادری سرگرم ہیں، جن میں بڑی تعداد افریقہ اور ایشیا سے تعلق رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اٹلی میں امیگریشن ایک طویل مدتی حقیقت بن چکی ہے، لیکن تارکینِ وطن کی تعلیم، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور معاشرتی شمولیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔