6

میلسی: قبرستان کی اراضی پر مبینہ قبضہ، متعدد قبور مسمار؛ ورثا کا احتجاج

میلسی: قبرستان کی اراضی پر مبینہ قبضہ، متعدد قبور مسمار؛ ورثا کا احتجاج

میلسی (بیورو چیف و ہا ڑ ی ) میلسی کے نواحی موضع علی واہ میں قبرستان کی اراضی پر مبینہ قبضہ کرکے چار دیواری تعمیر کیے جانے اور تعمیرات کے دوران متعدد قبور کی بے حرمتی و مسماری کا معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔ متاثرہ قبور کے ورثا محمد اعظم کھچی، مہر محمد شاہد، مہر محمد یاسین، مہر عبدالحمید اور دیگر نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور قبرستان کی اراضی واگزار کرانے کا مطالبہ کیا ہےتفصیلات کے مطابق متاثرین اور اہلِ علاقہ کا الزام ہے کہ موضع علی واہ کے زمیندار احمد خان کھچی نے قبرستان کی زمین پر مبینہ طور پر قبضہ کرکے وہاں دیواریں تعمیر کر دیں۔ تعمیراتی کام کے دوران متعدد قبور متاثر ہوئیں جبکہ بعض قبور کو مبینہ طور پر مسمار کر دیا گیا، جس پر مرحومین کے ورثا اور اہلِ علاقہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔متاثرین محمد اعظم کھچی، مہر محمد شاہد، مہر محمد یاسین، مہر عبدالحمید اور دیگر کا کہنا ہے کہ قبور کی مسماری اور بے حرمتی ناقابلِ برداشت عمل ہے۔ ان کے مطابق جب انہوں نے مبینہ قبضے اور قبور کی مسماری کے خلاف احتجاج کیا تو فیاض ڈاھا نے درجنوں افراد کے ہمراہ احتجاج کرنے والوں کو مبینہ طور پر زدوکوب کیا اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ قبرستان کی اراضی کی سرکاری سطح پر پیمائش اور نشاندہی کرائی جائے، مبینہ قبضے اور تعمیرات کی مکمل تحقیقات کی جائیں، مسمار کی جانے والی قبور کا جائزہ لیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔اہلِ علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قبرستان کی اراضی کو مبینہ قبضے سے محفوظ بنایا جائے، متاثرہ قبور کی حرمت بحال کی جائے اور احتجاج کرنے والے شہریوں کو مبینہ زدوکوب اور دھمکیوں کے معاملے کی بھی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

نوٹ: مذکورہ الزامات متاثرین اور اہلِ علاقہ کے بیان کردہ مؤقف پر مبنی ہیں۔ نامزد افراد یا متعلقہ انتظامیہ کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں