سکھر: نوید پر سسرالیوں کی فائرنگ اور تشدد کا الزام، متاثرہ شخص کا سول اسپتال کے باہر احتجاج، تحفظ و انصاف کا مطالبہ
سکھر: نوید پر سسرالیوں کی فائرنگ اور تشدد کا الزام، متاثرہ شخص کا سول اسپتال کے باہر احتجاج، تحفظ و انصاف کا مطالبہ
سکھر(بیورورپورٹ)نمائش چوکی کے رہائشی ایک شخص نے سسرالیوں کی جانب سے مبینہ طور پر گھر میں گھس کر تشدد کرنے، فائرنگ کرکے زخمی کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے خلاف اپنے بھائی اور معصوم بچی کے ہمراہ سول اسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام مبینہ ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔اس موقع پر متاثرہ شخص نوید اور اس کے بھائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نوید کی اہلیہ، اس کے والد جانب اور سالوں بہار، دلاور اور گلزار کی جانب سے مختلف اوقات میں مبینہ طور پر رقم کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ ان کے مطابق کبھی 20 ہزار اور کبھی 40 ہزار روپے طلب کیے جاتے، جبکہ گھر میں لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے وہ مطالبات پورے کرتے رہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر مسلسل مالی مطالبات کے بعد سسرالیوں کی جانب سے انہیں بلیک میل بھی کیا جانے لگا، جس پر معاملہ علاقے کی ایک معزز شخصیت کے پاس فیصلے کے لیے رکھا گیا۔ تاہم، ان کے مطابق تین روز قبل سسر جانب اور سالوں نے مبینہ طور پر گھر میں داخل ہوکر انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ اپنی بیٹی کو ساتھ لے گئے اور دودھ پیتی بچی کو ان کے پاس چھوڑ کر چلے گئے۔متاثرہ خاندان کے مطابق بعد ازاں مبینہ طور پر مزید 60 ہزار روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم بچی کی خاطر انہوں نے مذکورہ رقم بھی ادا کردی، تاہم اس کے باوجود نوید کے سسر اور سالوں نے مبینہ طور پر دوبارہ اس پر تشدد کیا اور فائرنگ کرکے فرار ہوگئے۔مظاہرین نے بتایا کہ واقعے کے فوری بعد متعلقہ تھانہ سائٹ ایریا میں رپورٹ درج کرائی گئی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نوید کے سسر جانب کو گرفتار کرلیا، تاہم ان کے مطابق دیگر تین مبینہ ملزمان تاحال آزاد گھوم رہے ہیں اور انہیں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔متاثرہ خاندان نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے باقی مبینہ ملزمان کو بھی گرفتار کیا جائے، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے انصاف یقینی بنایا جائے۔