جونیئر سائنس ٹیچر (JST) امیدواروں کا پاسنگ مارکس 55 سے کم کرکے 50 مقرر کرنے کا مطالبہ
سکھر(بیورورپورٹ)سکھر جونیئر سائنس ٹیچر (JST) ٹیسٹ میں 50 سے 54 نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں نے حکومتِ سندھ، محکمہ اسکول ایجوکیشن، آئی بی اے سکھر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ JST کے پاسنگ مارکس 55 کے بجائے 50 مقرر کیے جائیں تاکہ ہزاروں اہل امیدواروں کو روزگار کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔
امیدواروں کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 5 ہزار 200 امیدوار ایسے ہیں جنہوں نے JST ٹیسٹ میں 50 سے 54 نمبر حاصل کیے، تاہم پاسنگ معیار 55 مقرر ہونے کے باعث وہ اگلے مرحلے کے لیے اہل قرار نہیں دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نہ صرف ہزاروں امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ماضی میں اختیار کیے گئے بھرتی کے اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔امیدواروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں مختلف سرکاری بھرتیوں اور امتحانات میں 50 فیصد یا اس سے بھی کم پاسنگ معیار رکھا جاتا رہا ہے، جن میں JEST 2018 میں 50 فیصد، ٹیچنگ لائسنس کے امتحان میں 50 فیصد، PST/JEST کے مختلف ٹیسٹوں میں 33 سے 40 فیصد جبکہ HST، SST، سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) اور آئی بی اے کے دیگر امتحانات میں بھی نسبتاً کم پاسنگ معیار مقرر کیا گیا تھا۔ ایسے میں صرف JST کے لیے 55 نمبر کی شرط عائد کرنا امیدواروں کے مطابق غیر منصفانہ اور امتیازی اقدام ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ دنیا بھر میں 50 فیصد کو ایک مناسب، منصفانہ اور قابلِ قبول پاسنگ معیار تصور کیا جاتا ہے، اس لیے حکومت سندھ اور محکمہ تعلیم کو چاہیے کہ میرٹ، انصاف اور مساوی مواقع کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے JST کے پاسنگ مارکس 55 سے کم کرکے 50 مقرر کرے۔
امیدواروں نے مطالبہ کیا کہ 50 سے 54 نمبر حاصل کرنے والے تمام اہل امیدواروں کو بھی تقرری کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی محنت رائیگاں نہ جائے اور صوبے میں سائنس اساتذہ کی دستیاب آسامیوں کو میرٹ کی بنیاد پر پُر کیا جا سکے۔آخر میں JST امیدواران نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم سندھ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن، آئی بی اے سکھر اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پاسنگ معیار پر نظرثانی کریں اور “50 فیصد ایک منصفانہ اور قابلِ قبول پاسنگ معیار ہے” کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ہزاروں امیدواروں کو انصاف فراہم کریں۔









