6

سکھر( سید نصیر زیدی ) بچل شاہ میانی کی ملک برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے سی سیکشن پولیس کی جانب سے مبینہ طور

سکھر( سید نصیر زیدی )
بچل شاہ میانی کی ملک برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے سی سیکشن پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلہ ظاہر کرکے ذہنی مریض رحیم بخش عرف راجہ ملک کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے کے خلاف سکھر پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ڈی آئی جی سکھر سے واقعے کا فوری نوٹس لے کر مبینہ طور پر ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر احتجاج کرنے والے عرفان ملک۔ خیر محمد ملک حماد اللّٰہ ملک، سید حزب اللہ شاہ و دیگر افراد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رحیم بخش عرف راجہ ملک ذہنی طور پر بیمار ہے اور تقریباً چھ روز قبل بچل شاہ میانی میں واقع اپنے گھر سے نکل گیا تھا۔ رات ہونے کے بعد اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے اس کی تلاش شروع کی، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ مظاہرین کے مطابق گزشتہ چھ روز سے اہل خانہ مسلسل اپنے لاپتا لڑکے کی تلاش میں مصروف تھے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ سی سیکشن تھانے کی پولیس نے پرانے سکھر میں پیر توڈل شاہ قبرستان کے قریب ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران رحیم بخش عرف راجہ ملک کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا ہے اور اسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر رحیم بخش کے والدین اور دیگر اہل خانہ شدید صدمے سے دوچار ہوگئے، جبکہ گھر میں کہرام مچ گیا اور والدین و بہنوں کی حالت غیر ہوگئی۔ملک برادری کے افراد نے الزام عائد کیا کہ رحیم بخش ذہنی مریض ہے اور اسے مبینہ طور پر ایک جعلی پولیس مقابلہ ظاہر کرکے زخمی کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد انہوں نے سی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او سے رابطہ کرکے حقائق جاننے اور ملاقات کی کوشش کی، تاہم مبینہ طور پر ایس ایچ او نے ملاقات سے گریز کیا۔ مظاہرین کے مطابق انہوں نے ایس ایس پی سکھر سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر انہیں بھی ملاقات کا موقع نہیں دیا گیا۔
مظاہرین نے مزید بتایا کہ مبینہ پولیس مقابلے میں زخمی ہونے والے رحیم بخش عرف راجہ ملک کی طبیعت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث اہل خانہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔احتجاجی مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ڈی آئی جی سکھر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، رحیم بخش کو زخمی کرنے کے ذمہ دار سی سیکشن تھانے کے متعلقہ پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور مبینہ طور پر گرفتار ذہنی مریض کو فوری طور پر اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی اور واقعے کا نوٹس نہ لیا گیا تو وہ ڈی آئی جی سکھر کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں