14

ڈہرکی(رپورٹ:ملک بشیراحمد)ڈہرکی اسمگلنگ کا مرکزی ہب بن گیا پان پراک ایرانی و افغانی سامان کی

ڈہرکی(رپورٹ:ملک بشیراحمد)ڈہرکی اسمگلنگ کا مرکزی ہب بن گیا پان پراک ایرانی و افغانی سامان کی پنجاب و خیبرپختونخوا تک ترسیل جاری شہریوں کا ڈیلروں کے خلاف شفاف تحقیقات اور فوری کریک ڈاؤن کا مطالبہ تفصیل کے مطابق : ڈہرکی میں مبینہ طور پر اسمگل شدہ اشیاء کی سرعام خرید و فروخت اور پنجاب سمیت دیگر علاقوں ترسیل جاری ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوے سکھر اینٹی اسمگلنگ ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر وزیر احمد مہر نے اپنے بیان میں کہا کہ فاؤنڈیشن کی تحقیقات اور سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ڈہرکی سندھ پنجاب بارڈر پر اسمگلنگ کے لیے ایک اہم ہب بن چکا ہے، جہاں ایرانی اور افغان اشیاء، پان پراگ، غیر قانونی سگریٹ، ایرانی ڈیزل، چاکلیٹ اور دیگر اسمگل شدہ سامان کی مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ترسیل اور فروخت جاری ہے انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران جاوید بھٹو کا نام پان پراگ اور دیگر اسمگل شدہ اشیاء کے مبینہ بڑے ڈیلر کے طور پر سامنے آیا ہے، جو سندھ پنجاب بارڈر کے قریب رہتے ہوئے مبینہ طور پر پنجاب کے مختلف علاقوں تک سامان کی ترسیل کے نیٹ ورک سے وابستہ ہے ماضی میں بھی جاوید بھٹو سے منسوب گوداموں پر پولیس کی جانب سے کارروائی اور چھاپوں کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں، تاہم کارروائیوں کے باوجود مبینہ طور پر کچھ عرصے بعد سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوجاتی ہیں اگر ماضی میں چھاپے مارے گئے، سامان پکڑا گیا اور کارروائیاں کی گئیں تو پھر یہی کاروبار دوبارہ کس طرح شروع ہوجاتا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابقہ کارروائیوں کا ریکارڈ سامنے لایا جائے اور اس امر کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں کہ کارروائیوں کے باوجود اسمگلنگ کا نیٹ ورک دوبارہ فعال ہونے میں کیسے کامیاب ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ڈہرکی سے گزرنے والی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بڑی تعداد میں گاڑیوں اور سندھ پنجاب بارڈر کی اہم جغرافیائی حیثیت کے باعث اس علاقے کی نگرانی انتہائی ضروری ہے اگر اسمگل شدہ سامان واقعی ڈہرکی سے پنجاب اور خیبرپختونخوا تک پہنچ رہا ہے تو متعلقہ اداروں کو اس پورے روٹ کی مؤثر نگرانی اور کریک ڈاؤن کرنا ہوگا ریجنل ڈائریکٹر نے پولیس، کسٹمز، ایکسائز، اینٹی اسمگلنگ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ جاوید بھٹو سمیت جن افراد کے نام اسمگلنگ کے مبینہ نیٹ ورک میں سامنے آرہے ہیں، ان کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں، مشتبہ گوداموں اور ذخیرہ گاہوں کی مکمل تلاشی لی جائے اور شواہد کی روشنی میں ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے وزیر احمد مہر نے مزید کہا کہ اگر کسی بھی سرکاری اہلکار یا افسر کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے ساتھ ملی بھگت، سہولت کاری یا چشم پوشی ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے اسمگلنگ کے خلاف کارروائی صرف سامان پکڑنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس پورے نیٹ ورک، بڑے ڈیلروں، سہولت کاروں اور مبینہ سرپرستوں تک پہنچنا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ اینٹی اسمگلنگ ویلفیئر فاؤنڈیشن اسمگلنگ کے خاتمے، قانونی تجارت کے تحفظ اور قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کے لیے اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند کرتی رہے گی اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ ڈہرکی میں اسمگلنگ کے مبینہ نیٹ ورک کے خلاف فوری، شفاف اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں