October 17, 2026

سکھر(بیورورپورٹ سید نصیر حسین زیدی )سندھ میں دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ میں اضافے کا سلسلہ

IMG-20260822-WA0205

سکھر(بیورورپورٹ سید نصیر حسین زیدی )سندھ میں دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ میں اضافے کا سلسلہ برقرار ہے، گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں پر پانی کی آمد و اخراج میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 21 اگست 2026ء کو صبح 6 بجے جاری کردہ پانی کی صورتحال کی رپورٹ کے مطابق گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 22 ہزار 227 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 82 ہزار 760 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 67 ہزار 230 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 13 ہزار 360 کیوسک رہا، جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 1 لاکھ 29 ہزار 496 کیوسک اور اخراج 86 ہزار 631 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔پانی کی سطح سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق چاچران کے مقام پر پانی کی سطح 7.9، ڈاؤن اسٹریم مِٹھی کے مقام پر 123.6 جبکہ امڑی کے مقام پر 100.5 ریکارڈ کی گئی۔ دریائی پانی کے مسلسل بڑھتے ہوئے بہاؤ کے باعث سندھ کے بیراجوں اور دریائی علاقوں میں صورتحال کی نگرانی کا عمل جاری ہے۔دوسری جانب بالائی علاقوں میں بھی دریاؤں اور بیراجوں پر پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1550 فٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ دریائے کابل میں پانی کی آمد 43 ہزار 500 کیوسک رہی۔ کالا باغ کے مقام پر پانی کی آمد 4 لاکھ 25 ہزار 289 کیوسک اور اخراج 4 لاکھ 16 ہزار 989 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
چشمہ بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 95 ہزار 087 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 22 ہزار 991 کیوسک ریکارڈ ہوا۔تونسہ بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 17 ہزار 531 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 96 ہزار 931 کیوسک رہا۔ مظفرگڑھ، گڈو اور دیگر مقامات پر بھی پانی کے بہاؤ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پنجاب کے مختلف ہیڈ ورکس پر بھی پانی کی قابل ذکر مقدار ریکارڈ کی گئی ہے۔پانی کے بڑھتے ہوئے بہاؤ کے پیش نظر سندھ کے بیراجوں، دریائی پشتوں اور نشیبی علاقوں میں آبپاشی اور ممکنہ سیلابی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے پانی کی آمد و اخراج اور دریائی صورتحال کی مسلسل نگرانی نہایت اہم قرار دی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برسات کے موسم میں بھی گڈو اور سکھر بیراجوں پر پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث فلڈ مانیٹرنگ اور حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر دریائے سندھ کے بہاؤ میں مزید اضافے کی صورت میں متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رہنے اور دریائی علاقوں میں بروقت معلومات کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔