“میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے زندگی میں ایسے کیمرے کے سامنے آ کر اپنے بابا کے لیے انصاف مانگنا پڑے گا…”
چوہدری عبداللہ طاہر کی بیٹی کا یہ بیان شاید ہر باپ، ہر بیٹی اور ہر حساس دل رکھنے والے انسان کو رُلا دے۔
وہ کہتی ہیں:
“میں انگلینڈ میں پڑھ رہی تھی۔ جب مجھے یہ خبر ملی کہ میرے بابا اس دنیا میں نہیں رہے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ ایک ماں کا اکلوتا بیٹا، دو بہنوں کا واحد بھائی اور سات بچوں کا باپ اچانک ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا۔”
“مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں اچانک ٹھنڈی چھاؤں سے نکل کر تپتی دھوپ میں آ کھڑی ہوئی ہوں۔ شکر ہے کہ وہاں کچھ لوگ مجھے سنبھالنے والے تھے، ورنہ مجھے نہیں معلوم میں یہ صدمہ کیسے برداشت کرتی۔”
پھر ایک اور کڑا مرحلہ شروع ہوا—انگلینڈ سے پاکستان واپسی کا سفر۔
وہ کہتی ہیں:
“23 گھنٹے کا وہ سفر مجھے 23 سال جتنا طویل محسوس ہوا۔ دل چاہتا تھا بس پلک جھپکوں اور اپنے بابا کی میت کے پاس پہنچ جاؤں۔ ان سے لپٹ کر جی بھر کے روؤں، مگر فاصلے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔”
“جب پاکستان پہنچی اور اپنے بہن بھائیوں، اپنی ماں اور اپنی دادی کو دیکھا تو جو قیامت ہم پر گزری، اسے الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔”
پھر اس بیٹی نے وہ بات کہی جو شاید اس پوری داستان کا سب سے دردناک پہلو ہے:
“میرے بابا واپس نہیں آسکتے۔ چاہے ہمیں دنیا کا سب سے بڑا انصاف بھی مل جائے، کوئی بھی میرے بابا کو ہمیں واپس نہیں دے سکتا۔”
“میں نے اپنے بابا کو کھو دیا ہے، لیکن میں نہیں چاہتی کہ میرے جیسی کوئی اور بیٹی اپنے باپ کے سائے سے محروم ہو۔ میں نہیں چاہتی کہ کوئی اور بچہ اپنے والد کو یوں کھو دے۔”
“اسی لیے میں حکومت، پولیس اور متعلقہ اداروں سے انصاف کی اپیل کرتی ہوں۔ میرے والد کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق انہیں ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔ اگر مجرموں کو بروقت انصاف کے کٹہرے تک پہنچایا جائے تو شاید کسی اور گھر کا چراغ بجھنے سے بچ جائے۔”
یہ صرف ایک بیٹی کی فریاد نہیں، ایک ایسے گھر کی آواز ہے جس سے اس کا سایہ چھین لیا گیا۔
انصاف شاید اس خاندان کا دکھ ختم نہ کر سکے، لیکن انصاف کی فراہمی کم از کم یہ یقین ضرور دلا سکتی ہے کہ کسی بے گناہ انسان کا خون یوں بے معنی نہیں جائے گا۔
عوام سے بھی اپیل ہے کہ چوہدری عبداللہ طاہر مرحوم کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور انہیں انصاف نصیب فرمائے۔ آمین۔ 🤲