October 27, 2026

‏جنرل باجوہ نے ہماری حکومت کے خلاف سازش کا جال بننا شروع کیا تو اس نے بہت سے جھوٹ پھیلائے لیکن مولانا فضل الرحمان، خواجہ آصف اور محمد زبیر نے باجوہ کے جھوٹوں کا پردہ چاک کر دیا۔ جنرل باجوہ نے پہلے جنرل فیض کو اکتوبر ۲۰۲۱ میں ہٹایا اور اسی مہینے امریکہ میں حسین حقانی کو ہمارے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے

20241002_083323

‏جنرل باجوہ نے ہماری حکومت کے خلاف سازش کا جال بننا شروع کیا تو اس نے بہت سے جھوٹ پھیلائے لیکن مولانا فضل الرحمان، خواجہ آصف اور محمد زبیر نے باجوہ کے جھوٹوں کا پردہ چاک کر دیا۔ جنرل باجوہ نے پہلے جنرل فیض کو اکتوبر ۲۰۲۱ میں ہٹایا اور اسی مہینے امریکہ میں حسین حقانی کو ہمارے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے 35 ہزار ڈالرز پر ہماری ہی حکومت کے خلاف لابنگ /پراپیگنڈہ کرنے کے لئے لگایا۔ اسی لئے تو جب جنرل فیض کو ہٹایا گیا تو مریم نواز بہت شور مچایا کرتی تھی کہ اب عمران خان کی حکومت گئی۔ یہ سب لندن پلان میں طے کیا گیا تھا اور جنرل فیض کا ہٹایا جانا لندن پلان کا طے شدہ حصہ تھا چنانچہ جنرل فیض کو نواز شریف کی ایما پر ہی تبدیل کیا گیا۔
ایکسٹنشن مافیہ نے اپنے ذاتی ایکسٹنشن اور مفادات کی خاطر جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں ہمیں صرف دو جلسے کرنے کی مشروط اجازت دی گئی۔ ان کی راہ میں بھی بے شمار رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، ہمارے لوگوں پر جھوٹے مقدمات درج کئے گئے حتّٰی کہ پارلیمنٹ پر حملہ کیاگیا اور اس کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے منتخب نمائندوں کو گرفتار کیا گیا۔

میرے پاکستانیو!
اس وقت ملک کے تمام اداروں کو غلام بنا لیا گیا ہے اور صرف سپریم کورٹ آخری ادارہ بچا ہے جس پر ایکسٹنشن مافیہ اور فارم ۴۷ کی جعلی حکومت پورے قوت سے حملہ آور ہے۔ جماعت اسلامی اور جمیعت علمائےاسلام (ف) سمیت تمام دیگر سیاسی جماعتوں کو جلسہ جلوس کرنے کی مکمل آزادی ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کے جلسہ و جلوس پر مکمل پابندی ہے کیونکہ ہم نے ان کے سامنے جھکنے اور غلامی سے انکار کر دیا ہے۔ نواز شریف این آر او لیکر 10 سال کا معاہدہ کر کے ملک سے باہر گیا جبکہ مجھ سے تو صرف 3 سال کیلئے خاموشی کی توقع کی جا رہی ہے۔ 3 سال تو دور کی بات، میں تو محض 3 سیکنڈز کے لئے بھی خاموش رہنے پر تیار نہیں اور نہ ہی اپنی قوم کے مفادات پر کسی قسم کے سمجھوتے پر آمادہ ہوں۔
میرے پاکستانیو!
آزادی کی جدوجہد میں قربانی دینی پڑتی ہے، جس طرح سید حسن نصراللہ اور اسماعیل ہنیہ نے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جانوں کی قربانیاں پیش کی ہیں اسی طرح میں اپنی قوم سے کہتا ہوں کہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں اور آزادی کیلئے بے خوف ہو کر بھرپور جدوجہد کریں۔ اس وقت ہماری حقیقی آزادی کی فیصلہ کن تحریک شروع ہو چکی ہے اور یہ حقیقی آزادی کے حصول تک جاری رہے گی۔ پرامن احتجاج ہمارا حق ہے اوراپنے اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے جمعہ کے روز ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاج ہوگا اور علی امین خان گنڈاپور اپنا قافلہ لے کر پہنچیں گے۔ اس کے بعد ہفتہ کے روز ہم مینار پاکستان لاہور پر اسی طرح بھرپور احتجاج کریں گے جس طرح آج ہم میانوالی، فیصل آباد بہاولپور اور سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں۔ اب یہ تحریک مسلسل جاری رہے گی اور ہم اپنے اگلے ہفتے کے احتجاجوں کا شیڈول ہفتہ کے روز جاری کریں گے۔

آخر میں میں علی امین خان گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر علی خان کے متعلق خود سے منسوب جھوٹے بیانات کی وضاحت پیش کرنا چاہتا ہوں:
۱۔ علی امین خان گنڈاپور ہمارے ہیرو ہیں، انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے، انہوں نے اپنی وزارت اعلیٰ کی کرسی کا لالچ کیئے بغیر جس طرح حقیقی آزادی کی جنگ لڑی ہے وہ قابل تحسین ہے۔
۲۔ اسی طرح ہماری پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بہت زبردست کام کیاہے۔ میں انہیں شاباش دیتا ہوں جس طرح انہوں نے پارٹی کو مشکل وقت میں چلایا وہ لائقِ تعریف و اعتراف ہے۔
پاکستان زندہ باد