امریکا نے ایران پر حملہ کیوں کیا ؟ حصہ چہارم و آخر
امریکا نے ایران پر حملہ کیوں کیا ؟ حصہ چہارم و آخر
مسعود انور
یہ جاننے کے بعد کہ ٹرمپ روتھس شیلڈ کی کٹھ پتلی ہے ۔ وہ خود کچھ بھی کرنے کے لیے مختار نہیں ہے بلکہ وہ ہاؤس آف روتھ شیلڈز کی ڈگڈگی پر ناچتا ہے ۔ یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ ایران پر حملہ ٹرمپ نے نہیں ہاؤس آف روتھ شیلڈز نے کیا ہے۔ تقریبا میرے تمام ہی قاری روتھس شیلڈز کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں کہ میں اکثر اس کے بارے میں لکھتا رہتا ہوں ۔ یہ جاننے کے لیے کہ ایران میں وار تھیٹر کیوں سجایا گیا ، آئیے روتھس شیلڈز یا عالمی سازش کاروں یا شیطان کے پجاریوں کے عزائم جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
کوئی بھی عالمی پروجیکٹ جب بھی شروع کیا جاتا ہے تو اس کے کثیر الجہتی مقاصد ہوتے ہیں ۔ کچھ مقاصد فوری طور پر حاصل کرلیے جاتے ہیں جبکہ کچھ طویل مدتی ہوتے ہیں ۔ ذرا یہ تو دیکھیے کہ ایران پر حملے سے کس کس کو فائدہ ہوا ۔ اس حملے سے نہ تو حملہ کرنے والے فائدے میں رہے اور نہ ہی وہ جس پر حملہ کیا گیا ۔
اس سے امریکا اور اسرائیل دونوں بھاری نقصان میں چلے گئے ۔ ان پر مزید کئی ٹریلین ڈالر کا قرض چڑھ گیا ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگ گیا ۔ دونوں ہی ممالک میں مہنگائی کا گراف اوپر اور اوپر چلا گیا جس کی وجہ سے ان کی معیشت گرداب میں آگئی ۔ یورپ اور امریکا میں یہود مخالفت میں اضافہ ہوا اور اسرائیل کی حمایت کم ترین درجے پر آ گئی ۔ پہلی مرتبہ امریکا کو یورپ کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اس کا یہ روایتی اتحاد ٹوٹ گیا جس کے اثرات امریکا پر طویل مدت کے لیے رہیں گے ۔ ایران کے نقصانات تو سب کے سامنے ہی ہیں ۔ اس کی سیاسی ، مذہبی و فوجی قیادت کو صاف کردیا گیا ۔ اس کے سائنسداں مار دیے گئے۔ انفرا اسٹرکچر بری طرح تباہ کردیا گیا۔ معاشرے کے تار و پور میں زلزلہ آگیا جس کے اثرات آئندہ پانچ برسوں میں سب کے سامنے ہوں گے ۔
تو پھر فائدے میں کون رہا ؟ تیل و گیس پیدا کرنے والی کمپنیاں ، اسلحہ بنانے والی کمپنیاں ، جہاز راں کمپنیاں ، ادویہ ساز کمپنیاں ، کھاد بنانے والی کمپنیاں ، اسٹار لنک جیسی ٹیلی کام کمپنیاں ، انشورنس کمپنیاں وغیرہ وغیرہ ۔ ان کے حصص کی قیمت میں راتوں رات اضافہ ہوا اور ہوتا ہی رہا ۔ ان کمپنیوں کے منافع میں بھی شب و روز ہی اضافہ ہوتا رہا ۔ ذرا غور تو کیجیے کہ افغانستان پر روسی حملے کے بعد سے پوری دنیا میں کہیں نہ کہیں جنگ جاری ہے ۔ چاہے روس حملہ کرے یا امریکا ، مگر طویل مدتی جنگیں مسلسل جاری ہیں ۔ ان جنگوں کا تاوان کون بھرتا ہے ۔ جنگ کرنے والے ممالک کے عوام اور کبھی کبھی پوری دنیا کے عوام ۔ اور اس سے فائدہ کون اٹھاتا ہے ۔ یہی کمپنیاں ۔
اب ذر آپ خود ہی کھنگال لیجیے کہ ان کمپنیوں کے مالکان کون ہیں ۔ یہی بینکار اور یہی عالمی سازش کار ۔ یہ تو ہے فوری طور پر حاصل ہونے والا فائدہ جو پس پردہ بیٹھے ہوئے یہ کھلاڑی اٹھا رہے ہیں ۔
اس جنگ یا حملے سے اصل مقصد کیا درکار ہے ۔ اس کے لیے ہمیں ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے بلیو پرنٹ کو دوبارہ سے دیکھنا ہوگا ۔ نائن الیون کے واقعہ (اب تو وکی پیٖڈیا بھی یہ لکھنے لگا ہے کہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ موساد کا فالس فلیگ آپریشن تھا ) کے ٹھیک نو دن بعد یہ 20 ستمبر 2001 کی صبح تھی جب حال میں ہی ریٹائر ہونے والے امریکی جنرل ویزلے کلارک نے پنٹاگون میں قدم رکھا ۔ وہ یہاں پر سیکریٹری رمز فیلڈ اور ڈپٹی سیکریٹری وولف وٹز کے ساتھ ایک میٹنگ کے لیے آیا تھا۔ اس کا استقبال ایک حاضر سروس جنرل نے کیا جو ویزلے کلارک کی ماتحتی میں کام کرچکا تھا ۔ ساتھ چلتے چلتے اس جنرل نے کلارک کو بتایا کہ سر آئندہ پانچ برسوں میں امریکا نے سات ممالک پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس ملاقات کے چند ہفتوں کے بعد ایسی ہی ایک اور میٹنگ میں کلارک کو امریکی محکمہ دفاع کا جاری کیا گیا ایک میمو دیا گیا جس میں بتایا گیا تھا کہ ہم آئندہ پانچ برسوں میں سات ممالک پر فوج کشی کریں گے ۔ اس کا آغاز عراق سے ہوگا ، پھر شام ، لبنان ، لیبیا، صومالیہ ، سوڈان اور آخر میں ایران پر حملہ ہوگا ۔
گو کہ ایسا پانچ برسوں میں نہیں ہوا اور نہ ہی اس فہرست میں افغانستان شامل تھا مگر پہلا حملہ افغانستان پر ہی ہوا ۔ مگر یہ پانچوں ممالک یکے بعد دیگرے امریکی یا اس کے پراکسی ممالک کے ذریعے عدم استحکام کا شکار ہوتے چلے گئے ۔
اب گتھی پوری طرح سلجھ چکی ہے ۔ جس طر ح سے دیکھنے میں عراق ، لیبیا، سوڈان یا صومالیہ پر فوج کشی سے امریکا کو دیکھنے میں کوئی فائدہ نہیں ہوا مگر اس سے علاقے کے استحکام پر ضرور پڑا۔ بالکل اسی طرح ایران پر حملے سے خطے میں تبدیلیاں مقصود ہیں ۔ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔ یہ آگ وقفہ وقفہ سے بھڑکتی رہے گی ۔ اس وقت تک جب تک خطہ کا جغرافیہ تبدیل نہ کردیا جائے ۔
ایک بات پر اور ذرا غور کیجیے گا ۔ جنگ جاری رکھنے کے لیے دو طرفہ حملے ضروری ہیں ۔ ایران ایک کھلا نشانہ ہے جہاں پر دفاع نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے ۔ امریکا جب چاہتا ہے ، جس ہدف کو چاہتا ہے ۔ آرام سے نشانہ بنا لیتا ہے ۔ حتیٰ کہ اس کا B52 بمبار طیارہ بھی جو سب سےزیادہ آسان ٹارگٹ ہے ، بمباری کرکے بہ حفاظت واپس چلا جاتا ہے ۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی صف اول کی مذہبی ، سیاسی اور فوجی قیادت کو بہ آسانی نشانہ بنالیا ۔ اس کے سائنسداں چن چن کر مار دیے ۔ ایٹمی مراکز پر بنکر بسٹر میزائل برسادیے مگر انہوں نے کبھی بھی ایران کے میزائل یا ڈرون کے ذخیرے کو نہ تو چھوا اور نہ ہی اس کی فیکٹریوں کو تباہ کیا ۔ اسی طرح ایران کو ہمیشہ سے معلوم تھا کہ جب بھی امریکا اور اسرائیل حملہ کریں گے ، فضائی حملہ کریں گے مگر اس نے دفاعی نظام پر کوئی توجہ نہیں دی اور یہ پہلے دن سے ان کے لیے کھلا شکار رہا ۔ گزشتہ برس بھی یہی ہوا تھا مگر ایران نے حملہ آور نظام کو روز افزوں ترقی دی ۔ اس کے میزائیل ، اس کے ڈرون سب بہترین مگر دفاع کیوں نہیں ؟ یہ ایران میں بیٹھے عالمی سازش کاروں کے ایجنٹوں کا کمال تھا تاکہ جنگ حقیقی لگے ۔ اگر ایران میں ڈرون اور میزائل کے ذخیرے تباہ کردیے جائیں تو پھر جنگ کا میچ چلے گا کیسے اور اگر ایران اپنے دفاعی نظام سے اسرائیل اور امریکا کے میزائل تباہ کرنے لگے تو پھر جنگ تو ایک ہفتہ میں ہی ختم ہوجائے گی ۔
تو جناب نہ تو یہ تیل کی جنگ ہے ، نہ ہی یہ ایران کی بانہہ مروڑنے کی بات ہے کہ وہ القدس کی بات کرتا ہے ۔ صلح کے میمو میں نہ تو غزہ کا کوئی ذکر ہے اور نہ ہی القدس کا ۔یہ حملہ صرف اور صرف ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی جانب ایک قدم ہے ۔ باقی رہے ضمنی فوائد کی تو یہ سب کچھ ایسے ہی ہے جیسا کہ جب کوئی بلڈنگ ٹوٹتی ہے تو کباڑی ضرور فائدے میں ہوتا ہے ۔ اسی طرح جب کوئی مرجائے تو گورکن کے ساتھ ساتھ قبر پختہ کرنے والا مستری بھی روزگار سے لگ جاتا ہے ۔ رہی بات پاکستا ن اور قطر کی ثالثی کی تو یہ بھی اسکرپٹ میں ایسا ہی لکھا ہے ۔ ورنہ چہ پدی چہ پدی کاشوربہ ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔