August 30, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

درحقیقت خالد نجیب خان ایک نیا چاند چڑھنے والا ہے

IMG-20241002-WA0303
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

درحقیقت
خالد نجیب خان
ایک نیا چاند چڑھنے والا ہے

چار چاند لگانا یا لگ جانا کی ضرب المثل تویقینا آپ کے لئے نئی نہیں ہے اور اس کے استعمال سے بھی بخوبی آگاہ ہیں جبکہ ہم سب آسمان پر ہمیشہ ایک ہی چاند کو دیکھتے ہیں۔ لیکن سائنسدانوں نے ہمیں بتایا ہے کہ نظام شمسی میں زمین کے علاوہ کچھ ایسے سیارے بھی ہیں جوچاند کے معاملے میں زمین سے بازی لے جاچکے ہے۔ گویا وہ ایک سے زیادہ چاندوں کے مالک ہیں۔ان سیاروں پر یقینا انسان نہیں بستے اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے مگر یہ توعین ممکن ہے کہ وہاں اللہ کی کوئی اور مخلوق آباد ہو جس کا انسان کو کوئی شعور ہی نہ ہو۔وہاں کی مخلوق کیا کھاتی ہے،کیسے رہتی ہے،کیا پہنتی ہے،اس کا آئی کیو یا ای کیو لیول کتنا ہے اس کے بارے میں اندازے تو لگائے جاسکتے ہیں مگر کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی اور نہ یہ ہمارا آج کاموضوع ہے ۔ہمارا موضوع تو زمین کے چاند ہیں۔
زمین کے حقیقی چاند کو اماں کا بھائی نجانے کس نے بنا دیا ہے ۔ویسے ہم نے کئی شادی شدہ افراد ایسے بھی دیکھے ہیں جو چاند کو اپنا برادر نسبتی خیال کرتے ہیں اور شب عید کو جب وہ نظرنہیں آتا یا دیر سے یا مشکل سے نظر آتا ہے تو کہتے ہیں ’’سالا آج پھر نظر نہیں آیا‘‘۔’’سالا‘‘اور برادر نسبتی کا آپس میں کیا تعلق ہے یقینامحتاج بیان نہیں ہے۔
چند سال پہلے خبر آئی تھی کہ چین کے ایک شہر میں روشنی فراہم کرنے اور تحقیق کے لئے زمین کے مدار میں مصنوعی چاند بھیجا گیا تھا جس کی وجہ سے اب اُس شہر میں مسلسل چاند جیسی روشنی برستی رہتی ہے۔اس مصنوعی چاند کے وہاں پر ذیلی اثرات کیا ہوں اِس پر بھی یقیناً ماہرین نے کچھ سوچ رکھا ہوگا ۔ہمارے سوچنے یا نہ سوچنے سے اُن ذیلی اثرات پر کچھ اثر ہونے والا نہیں ہے ۔ہم تو یہ مضمون اِس لئے لکھ رہے ہیں کہ نظام شمسی کا مطالعہ کرنےوالے ماہرین نے اطلاع دی ہے کہ زمین کے مدار میں ’’ایک اور چاند آنے کو ہے ‘‘۔اس طرح کا جملہ اکثر گھروں میں اُس وقت بولا جاتا ہے جب وہاں کوئی بچہ پیدا ہونے والا ہوتا ہے۔ یہ جملہ سن کر بچے اور بوڑھے سب ہی خوشی سے سرشار ہوجاتے ہیں۔ اب زمین کے مدار میں نئے چاند کے آنے سے کس کس کو خوشی ہوتی ہے بتانا قبل از وقت ہے۔ماہرین نے بتایا ہے کہ پی ٹی ایس نامی سیارچہ صرف 2 ماہ کے لیے زمین کا چھوٹا چاند یا منی مون (mini moon) بننے والا ہے۔29 ستمبر سے اِس سیارچہ نے زمین کے مدار میں چکر لگانا شروع کردیا ہےاور 25 نومبر تک یہاں موجود رہے گا۔ یہ سیارچہ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک پراجیکٹ نے اگست 2024 میں دریافت کیا تھا اوراب وہ زمین تک پہنچ گیا ہے ۔بتایا گیا ہے کہ یہ سیارچہ ارجنا نامی سیارچوں کی پٹی کا حصہ ہے جو سورج کے گرد گھومتا ہے۔مگر اب وہ زمین کے قریب پہنچ گیا ہے اور ہمارے سیارے کی کشش اسے مزید قریب لے آئی ہے۔نومبر کے آخر میں وہ زمین کے مدار سے نکل جائے گا اور نظام شمسی میں اپنا سفر جاری رکھے گا۔سائنسدانوں کے خیال میں یہ زمین کے25 فیصد حصے کے گرد چکر لگائے گا۔ تاریک پتھر سے بنے اِس عارضی اور نئے چاند کو سادہ آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا حتیٰ کہ کسی چھوٹی دوربین سے بھی دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کی اونچائی محض 10 میٹر کے قریب ہے۔جبکہ اس کا قطر تقریبا 3474 کلو میٹر بنتا ہے۔
ناسا کے ماہرین نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ سیارچہ 2055 میں ایک بار پھر واپس لوٹے گا اور ممکن ہے کہ اس وقت پھر یہ زمین کا منی مون بن جائے مگر ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں۔
لاہور میں علم فلکیات کے ایک ماہراورشامی روحانی ٹی وی کے روح رواں آسٹروپامسٹ پروفیسر ایم اے شامی کا کہنا ہے کہ چھوٹے بڑے سیارچے زمین کے علاوہ دیگر سیاروں کے مداروں میں بھی آتے جاتے رہتے ہیں ۔جب یہ کسی سیارے کے مدار میں داخل ہوتے ہیں تو اُس کے معاملات میں بھی داخل ہوجاتے ہیں ۔ یہ دخل اندازی اچھی اور بری دونوں انداز میں ہوسکتی ہے ۔جیسا کہ ناسا والوں نے کہا ہے کہ یہ 31سال بعد پھر لوٹ کر آئے گا تو یہ عین ممکن ہے ۔بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ 31سال پہلے بھی چکر لگا کر گیا ہو اور عین ممکن ہے کہ یہ ہر 31سال بعد ہی آتا ہو ۔آسٹرولوجی میں عام طور پر اتنے چھوٹے سیاروں یا سیارچوں کا مطالعہ نہیں کیا جاتا مگر یہ حقیقت ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے سیارچہ یا کوئی بھی جسم جو زمین کے مدار میں داخل ہو وہ زمین کے حالات اور معاملات کو متاثر ضرور کرتا ہے۔
آسٹرولوجی کےعلم کی رو سے سیارہ ذحل تقریباً30 سال میں اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے توزمین پر حالات پھر ویسے ہی ہوجاتے ہیں جیسے 30 سال پہلے ہوتے تھے۔ ذحل کے تقریبا 30 سال کے چکر اور اِس سیارچے کے 31 سالہ چکر کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں میں اگر کوئی مماثلت پائی جائے گی تو اُسے محض اتفاق ہی کہا جائے گا ۔تاہم یہ بات تو طے ہے کہ زمین کے مدار میں آنے والا کوئی جسم زمین پر اچھے یا برے اثرات ڈالے بغیر ہی گزر کر نہیں جا سکتا ۔
بی بی سی کے مطابق ماہر فلکیات اور اوسم ایسٹرانومی نامی پوڈ کاسٹ کی میزبان ڈاکٹر جنیفر میلارڈ کہتی ہیں کہ یہ پہلی بار نہیں کہ چھوٹے چاند رونما ہوئے ہوں اور انھیں پہلے بھی کئی بار دیکھا جاچکا ہے۔ خیال ہے کہ ماضی میں کئی چاند آئے اور گئے مگر انھیں اتنی توجہ نہ مل سکی۔
کچھ چھوٹے چاند بار بار آئے ہیں، جیسے ’2022 میں این ایکس 1‘ نامی ایسٹرائیڈ سنہ 1981 کے بعد ایک بار پھر 2022 میں زمین کا منی مون بنا تھا۔
اگرلوگ اس منظر کو نہ بھی دیکھ پائیں تو پریشان ہونے کی بات نہیں ہے۔ ڈاکٹر میلارڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کہانی سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا نظام شمسی کتنا مصروف ہے اور یہاں ایسا کتنا کچھ ہے جسے اب تک دریافت نہیں کیا گیا ’یہاں لاکھوں نہیں تو ہزاروں ابجیکٹس ہیں جنھیں دریافت نہیں کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رات کو آسمان کا مسلسل مشاہدہ کتنا ضروری ہے تاکہ ان تمام ابجیکٹس کی نشاندہی کی جائے۔‘
دو مہینوں کے مہمان چاند سے ہمیں توقع کرنی چاہئے کہ اِس کی وجہ سے زمین پرصرف اور صرف مثبت اثرات ہی مرتب ہوں،کیونکہ اسرائیل دنیا پر جس طرح عالمی جنگ مسلط کرنے کے درپے ہے کہیں یہ بات نہ بن جائے کہ زمین پر دو ماہ کے لئے نیا چاند کیا آیا اس نے تو دنیا کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔
زنجانی ٹی وی کے روح رواں اور ماہنامہ آئینہ قسمت کے چیف ایڈیٹر آسٹروپامسٹ سید انتظار حسین زنجانی نے بتایا کہ اس طرح کے سیارچے یا شہاب ثاقب کا زمین کے مدار میں آنا معمول کی بات ہے اور کچھ دنوں میں یہ نکل بھی جاتے ہیں۔ان کی وجہ سے رونما ہونے والی تبدیلیاں قابل ذکر نہیں ہوتیں۔70کی دہائی میں ایک ایسے ہی شہاب ثاقب کے آنے بڑا چرچا ہوا تھا بہت سے لوگ خوفزدہ تھے کہ کہیں کوئی بڑا حادثہ نہ ہوجائے مگر شہاب ثاقب آیا اور چلا گیا۔اس سب کی وجہ سے عام آدمی بھی یہ جان گیا تھا کہ شہاب ثاقب کیا ہوتا ہے اور کیا کرتا ہے۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0