سادھو بیلہ میں بابا بھنکھنڈی مہاراج کے 163ویں سالانہ میلے کی اختتامی تقریب، ہزاروں یاتریوں کی عقیدت بھری شرکت، امن و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں
ملک بھر اور اندرونِ سندھ سے آنے والے زائرین نے مذہبی رسومات ادا کیں، سیکیورٹی اور انتظامات کو سراہا، اختتامی تقریب رات گئے تک جاری رہی
سکھر(بیورورپورٹ۔ سید ۔نصیر حسین زیدی)دریائے سندھ کے وسط میں واقع سکھر کے تاریخی اور مذہبی مقام سادھو بیلہ میں بابا بھنکھنڈی مہاراج کے 163ویں سالانہ تین روزہ میلے کی اختتامی تقریبات انتہائی مذہبی جوش و خروش، عقیدت اور احترام کے ساتھ منعقد ہوئیں۔ میلے میں ملک کے مختلف شہروں اور سندھ کے متعدد اضلاع سے ہزاروں ہندو یاتری، سنت، سادھو اور عقیدت مندوں نے شرکت کرکے بابا بھنکھنڈی مہاراج کی سمادھی پر حاضری دی، پھولوں کی چادریں چڑھائیں، خصوصی پوجا پاٹ، بھجن، کیرتن اور دیگر مذہبی رسومات ادا کیں۔میلے کے دوران زائرین نے بابا بھنکھنڈی مہاراج کی سمادھی پر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں امن، بھائی چارے، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔ منتیں پوری ہونے پر عقیدت مندوں نے نذر و نیاز بھی پیش کی، جبکہ خواتین، بزرگوں اور بچوں سمیت ہر عمر کے افراد نے مذہبی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی۔میلہ انتظامیہ نے اس موقع پر سادھو بیلہ کے احاطے کو رنگ برنگی جھنڈیوں، دیدہ زیب برقی قمقموں اور پھولوں سے خوبصورتی کے ساتھ سجایا تھا، جس سے پورا احاطہ روحانی اور پرمسرت منظر پیش کر رہا تھا۔ بھجن، کیرتن اور دیگر مذہبی تقریبات کے باعث سارا ماحول روحانیت سے معطر رہا اور زائرین اپنی مذہبی روایات کے مطابق عبادت اور دعاؤں میں مصروف رہے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے یاتریوں کے لیے رہائش، لنگر، پینے کے صاف پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی انتظامات کیے گئے تھے۔ دریائے سندھ کے ذریعے کشتیوں کے ذریعے زائرین کی آمد و رفت کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے تاکہ عقیدت مندوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔میلے کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور سکھر پولیس نے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے۔ داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کا مؤثر نظام قائم کیا گیا، جبکہ سادہ لباس اہلکاروں سمیت پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات رہی تاکہ زائرین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر مختلف شہروں سے آئے ہوئے یاتریوں نے کہا کہ سادھو بیلہ ان کے لیے نہایت مقدس مذہبی مقام ہے، جہاں وہ ہر سال حاضری دے کر روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے میلے کے شاندار انتظامات، بہترین مہمان نوازی اور سیکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔