پاکستان نے افغانستان کے اندر موجود مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف “گراؤنڈ آفینس” (زمینی کارروائی) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف “علاقائی سزا”
(Territorial Punishment)
دی جائے گی۔
بعض ذرائع نے اس نئی حکمت عملی کو غدوانہ (Ghudwana) انکلیو کی سابقہ کارروائی جیسا قرار دیا ہے،
جہاں پاکستانی فورسز نے سرحدی علاقوں میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا تھا۔
تازہ صورتحال:
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی ماہ سے بڑھ رہی ہے۔
اسلام آباد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہ افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائیوں اور سرحد پار آپریشنز کے اشارے مزید سخت کر دیے ہیں۔
افغان حکومت ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور سرحد پار کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے،
جس سے دونوں ممالک کے درمیان مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ 🔥