*فرانسیسی خاتون کی فریاد: کیا کمزور اور بے سہارا افراد کے لیے انصاف کے دروازے بند ہو چکے ہیں؟*
پاسبان پاکستان آرگنائزیشن کی جانب سے باڑہ خیبر میں ایک فرانسیسی خاتون اور اس کے بچوں سے متعلق سامنے آنے والے افسوسناک واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر ایک غیر ملکی خاتون پاکستان میں برسوں تک انصاف، تحفظ اور سکون کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کرتی رہی اور آج اپنے بچوں سمیت وطن واپسی کی خواہش کا اظہار کر رہی ہے تو یہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے اور نظامِ انصاف کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پاسبان پاکستان آرگنائزیشن سمجھتی ہے کہ ہر عورت، خواہ وہ پاکستانی ہو یا غیر ملکی، عزت، تحفظ اور انصاف کی مستحق ہے۔ اگر کسی خاتون کے ساتھ ظلم، زیادتی یا ناانصافی ہوئی ہے تو اس کی شفاف، غیر جانبدار اور فوری تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جا سکے۔
ہمیں اس بات پر بھی گہری تشویش ہے کہ ایسے حساس معاملات پاکستان کی عالمی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان اور خصوصاً پشتون معاشرہ اپنی مہمان نوازی، عزتِ نفس اور خواتین کے احترام کی روشن روایات رکھتا ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پوری قوم کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔
پاسبان پاکستان آرگنائزیشن مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، متاثرہ خاتون اور بچوں کو ہر ممکن قانونی و انسانی تحفظ فراہم کیا جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔
آج عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ایک غیر ملکی خاتون بھی خود کو محفوظ محسوس نہ کرے تو عام پاکستانی خواتین اور کمزور طبقات کس سے انصاف کی امید رکھیں؟ وقت آ گیا ہے کہ انصاف صرف طاقتوروں کے لیے نہیں بلکہ ہر مظلوم، بے سہارا اور کمزور فرد کے لیے یکساں طور پر فراہم کیا جائے۔
*پاسبان پاکستان آرگنائزیشن*