پی ایم ایل این کے سرگرم ورکر ملک عاقل چوہان کی سیاسی جدوجہد اور قیادت کے بارے میں تاثرات
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے کارکنوں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے جو کسی عہدے یا مفاد کے بجائے نظریے، وابستگی اور مسلسل جدوجہد کو اپنی شناخت بناتے ہیں۔ ضلع خوشاب کی تحصیل نورپور تھل کے علاقے جھرکل سے تعلق رکھنے والے ملک عاقل چوہان بھی انہی سیاسی کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے طویل عرصے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم پر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئ ہیں۔
ملک عاقل چوہان کے مطابق ان کا سیاسی سفر اکتوبر 2007ء میں پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت سے شروع ہوا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت کے ضلعی صدر تصور علی خان کے ساتھ ان کا نہایت اچھا تعلق رہا، جنہوں نے ان کی سیاسی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں یونین کونسل جھرکل میں مسلم لیگ (ن) کا صدر نامزد کیا۔ یہ ان کے سیاسی سفر کا ایک اہم سنگ میل تھا جس نے انہیں پارٹی تنظیم کے اندر فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔
عاقل چوہان کے مطابق سابق تحصیل صدر ملک منظور احمد بگا کے ساتھ مل کر انہوں نے پارٹی کی تنظیم سازی کے لیے بھرپور کام کیا۔ ملک عاقل کہنا ہے کہ اس دور میں یونین کونسل جھرکل مسلم لیگ (ن) کی واحد یونین کونسل تھی جہاں باقاعدہ پارٹی دفتر قائم کیا گیا اور اسے فعال انداز میں چلایا گیا۔ اس دفتر نے مقامی سطح پر پارٹی کارکنوں کو منظم کرنے اور عوامی رابطے مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
2011ء میں عاقل چوہان کو پاکستان مسلم لیگ یوتھ ونگ ن میں تحصیل انفارمیشن سیکرٹری کا اضافی چارج دیا گیا، جبکہ اسی سال انہیں مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ نورپور تھل کا جنرل سیکرٹری بھی مقرر کیا گیا۔ ان کے بقول سردار نذر حیات بلوچ، چوہدری شجاع الرحمان اور چوہدری منان کی قیادت میں نوجوانوں کو منظم کرنے اور پارٹی پیغام کو گھر گھر پہنچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے۔
سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے اعتراف میں انہیں وزیراعلیٰ آفس کے نوٹیفکیشن کے تحت یوتھ کونسل نورپور تھل کا رکن بھی نامزد کیا گیا۔ اس کے علاوہ مقامی زکوٰۃ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ رمضان بازاروں کی سپروائزری کمیٹی میں متعدد مرتبہ نمائندگی کرتے ہوئے عوامی خدمت کے مختلف منصوبوں میں حصہ لیا۔
عاقل چوہان کا کہنا ہے کہ ملک سعد بشیر اعوان کی پی ایم ایل این یوتھ ونگ ضلع خوشاب کی صدارت کے بعد انہیں پی پی 83 پی ایم ایل این یوتھ ونگ کا جنرل سیکرٹری نامزد کیا گیا۔ اس دوران انہوں نے مختلف سماجی اور فلاحی منصوبوں میں بھی کردار ادا کیا، جن میں “آواز فورم” پر کام اور مقامی سطح پر “مسلم ویلفیئر فاؤنڈیشن” کے قیام کی کوشش شامل ہے۔ اس کا مقصد عوامی خدمت اور فلاحی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔
اپنی سیاسی زندگی کے مختلف مراحل کا ذکر کرتے ہوئے ملک عاقل چوہان خاص طور پر ممبر ملک شاکر بشیر اعوان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔ ان کے مطابق 2008ء کے بعد ضلع خوشاب میں مسلم لیگ (ن) کی تنظیمی آبیاری اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی میں ملک شاکر بشیر اعوان کا کردار نمایاں رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں 2008ء سے آج تک ملک شاکر بشیر اعوان کی قریبی مشاورت اور اعتماد حاصل رہا، جو ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
ملک عاقل چوہان کا کہنا ہے کہ ملک سعد بشیر اعوان اور سردار نذر حیات بلوچ نے بطور جماعتی قائدین کارکنوں کو عزت اور اہمیت دی، جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ وہ تصور علی خان کو بھی مسلم لیگ (ن) کے لیے قربانیاں دینے والے رہنماؤں میں صفِ اول کا رہنما قرار دیتے ہیں۔
اپنی سیاسی وابستگی کی بنیاد بیان کرتے ہوئے عاقل چوہان کہتے ہیں کہ انہیں سیاست میں لانے والی اصل قوت میاں محمد نواز شریف کی شخصیت اور ان کی عوامی خدمت کا وژن تھا۔ ان کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) سے محبت آج بھی ان کے دل میں اسی جذبے کے ساتھ موجود ہے جس کے ساتھ انہوں نے 2007ء میں سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔
وہ حلقے کی سیاست میں ملک محمد خالد اعوان کی خدمات کو بھی سراہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ کارکنوں کو عزت دی اور حلقے کے مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کیا۔ اسی طرح ملک منظور احمد بگہ کی خدمات کو بھی وہ پارٹی کے استحکام کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔
عاقل چوہان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وابستہ پرانے اور نظریاتی کارکن آج بھی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق ملک نواب احمد حیات مغل، ملک عطا اللہ سگو اور ملک اللہ بخش کھاراجیسے کارکن مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ اور مخلص ساتھی ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں بھی پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
اپنے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے ملک عاقل چوہان کا کہنا ہے کہ ملک سعد بشیر اعوان کی قیادت میں پی پی 83 میں مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کو مزید منظم اور فعال بنانے کے لیے بھرپور مہم شروع کی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو سیاسی عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
عاقل چوہان نے ملک محمد وارث کلو کو ایک زیرک اور معاملہ فہم سیاسی رہنما قرار دیتے ہوءے کہا کہ انہوں نے ان کے ذریعے سے سیاست کو قریب سے سمجھنے کا موقع حاصل کیا۔ اسی طرح وہ ملک شاکر بشیر اعوان کو شرافت، رواداری اور مثبت سیاسی اقدار کا علمبردار قرار دیتے ہیں۔
بلاشبہ ملک عاقل چوہان کی یہ داستان ایک ایسے سیاسی کارکن کی کہانی ہے جس نے عہدوں سے زیادہ تنظیم، نظریے اور کارکنوں کے احترام کو اہمیت دی۔ ایسے کارکن ہی کسی بھی سیاسی جماعت کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں اور انہی کی بدولت سیاسی جماعتیں عوام کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط بناتی ہیں۔