9

قصور گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کا مکروہ دھندہ بے نقاب، نجی ہسپتال سیل، نکالا گیا گردہ برآمد

قصور
گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کا مکروہ دھندہ بے نقاب، نجی ہسپتال سیل، نکالا گیا گردہ برآمد

ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی قصور اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کے مبینہ مکروہ دھندے کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ گزشتہ شب سٹیل باغ چوک قصور میں واقع علامہ اقبال ہسپتال پر چھاپہ مار کر مبینہ طور پر غیر قانونی ٹرانسپلانٹ میں ملوث افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا، جبکہ آپریشن کے دوران نکالا گیا گردہ بھی برآمد کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق 21 جون 2026 کی رات تقریباً ڈھائی بجے 27 سالہ سکینہ بی بی دختر ماجد کاظمی، رہائشی عزیز گارڈن نزد خیرا پل لاہور، اپنی والدہ نشین بی بی اور کزن سید عمار ولد سید خورشید احمد کے ہمراہ علاج کی غرض سے علامہ اقبال ہسپتال قصور پہنچی۔ بتایا گیا ہے کہ مریضہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھی اور اس کا پہلے بھی لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں ٹرانسپلانٹ ہو چکا تھا جو کامیاب نہیں ہوا تھا۔

ذرائع کے مطابق مریضہ کے ساتھ موجود نوید ولد شوکت علی سکنہ نارووال اور شہباز ولد ارشد سکنہ کماہاں، لاہور کینٹ، ہسپتال کے نجی عملے کے ساتھ گردے کی انفیکشن کی سرجری کے بہانے آپریشن تھیٹر میں داخل ہوئے۔ اسی دوران ہسپتال کے ایک ملازم نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی کہ ہسپتال میں گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کی جا رہی ہے۔

اطلاع ملتے ہی تھانہ صدر قصور کی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور نوید، شہباز اور سید عمار کو حراست میں لے لیا، جبکہ محکمہ صحت کے حکام کو بھی طلب کر لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قصور ڈاکٹر فیصل نے موقع پر پہنچ کر علامہ اقبال ہسپتال کو سیل کر دیا۔ مریضہ سکینہ بی بی کو ابتدائی طور پر ڈی ایچ کیو بابا بلھے شاہ ہسپتال قصور منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد ازاں مزید علاج کے لیے جنرل ہسپتال لاہور ریفر کر دیا گیا۔

پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ غیر قانونی اعضا کی پیوندکاری میں ملوث نیٹ ورک کے دیگر کرداروں کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں