10

*نعمتوں کا احتساب اور ہماری ذمہ داری* پیر 22 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*نعمتوں کا احتساب اور ہماری ذمہ داری*

پیر 22 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

قرآنِ مجید کی سورۃ التکاثر مادی دوڑ، کثرت کی ہوس اور غفلت کے انجام پر ایک جامع سورت ہے۔ اس سورت کا اختتام جس آیتِ مبارکہ پر ہوتا ہے، وہ کائنات کے سب سے بڑے سچ اور احتساب کی طرف اشارہ کرتی ہے:

**ترجمہ:** “پھر یقیناً تم سے اس دن (قیامت کے روز) نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔”
یہ آیت ایک مومن کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اس دنیا میں اسے جو کچھ بھی ملا ہے—خواہ وہ اس کا جسم ہو، اس کی عقل ہو، مال و دولت ہو یا وقت—وہ محض اکرام نہیں بلکہ ایک بہت بڑی آزمائش اور امانت ہے۔
۱۔ “النعیم” (نعمتوں) کا وسیع دائرہ کار
مفسرینِ کرام فرماتے ہیں کہ لفظ “النعیم” میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن سے انسان اس دنیا میں فائدہ اٹھاتا ہے یا لذت حاصل کرتا ہے۔ جامع ترمذی کی ایک روایت کے مطابق، جب یہ آیت نازل ہوئی تو بعض صحابہ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! ہم سے کن نعمتوں کا سوال ہوگا؟ ہم تو صرف دو کالی چیزوں (کھجور اور پانی) پر گزارا کر رہے ہیں اور دشمن کا خوف سر پر ہے۔” آپ ﷺ نے فرمایا: “عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب نعمتیں کثیر ہوں گی اور سوال ہوگا۔”
علماء نے نعمتوں کو تین بنیادی حصوں میں تقسیم کیا ہے:
بدنی و جسمانی نعمتیں:
آنکھیں، کان، عقل، صحت، تندرستی اور زندگی کی سانسیں۔
مادی و بیرونی نعمتیں: ٹھنڈا پانی، سایہ دار مکان، لذیذ کھانا، مال و دولت، سواری اور لباس۔
روحانی و معنوی نعمتیں: سب سے بڑی نعمت “ایمان و ہدایت”، رسول اللہ ﷺ کی امت میں ہونا، امن و امان کی زندگی اور علمِ نافع۔
۲۔ سوال کی نوعیت کیا ہوگی؟
قیامت کے دن یہ سوال کسی فوجداری مقدمے کی طرح صرف مجرموں سے نہیں ہوگا، بلکہ ہر انسان سے ہوگا۔ مفسرین کے مطابق اس سوال کے دو بنیادی رخ ہوں گے:
1. ذرائع کا سوال (شکر گزاری):
کیا ان نعمتوں کو حاصل کرنے کا طریقہ جائز اور حلال تھا؟ کیا ان کا شکر ادا کیا گیا؟
2. استعمال کا سوال (مصرف):
کیا ان نعمتوں کو اللہ کی نافرمانی اور تکبر میں اڑایا گیا یا انہیں خلقِ خدا کی خدمت اور رضائے الٰہی کے لیے استعمال کیا گیا
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “قیامت کے دن کسی انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کا سوال نہ کر لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ کہاں گزاری، اس کے شباب (جوانی) کے بارے میں کہ کہاں بوڑھا کیا، اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا۔” (جامع ترمذی)

۳۔ مادی دور (تکاثر) اور عصرِ حاضر کا المیہ
آج کے دور میں یہ آیت ہمارے سماجی رویوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں “تکاثر” (ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور دکھاوے کی دوڑ) عروج پر ہے۔
نعمتوں کا زیاں:
لوگ اپنے گھروں، لباس، اور گاڑیوں کی نمائش میں مصروف ہیں۔ حلال و حرام کی تمیز مٹتی جا رہی ہے، اور رشوت یا ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ مال کو “اللہ کا فضل” یا “انعام” سمجھ کر غلطی کی جا رہی ہے۔
غفلت کا رویہ:
اس مادی دوڑ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انسان ان حقیقی نعمتوں (جیسے وقت، صحت اور ایمان) کی قدر بھول گیا ہے جو اسے آخرت سنوارنے کے لیے دی گئی تھیں۔
۴۔ شکرِ نعمت کا حقیقی مفہوم
اس آیت کا مقصد انسان کو ڈرانا یا نعمتوں کے استعمال سے روکنا نہیں ہے، بلکہ اسے **”شکر گزاری کا سلیقہ”** سکھانا ہے۔ اسلام رہبانیت (دنیا چھوڑنے) کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ:
* اگر اللہ نے صحت دی ہے، تو اسے کمزوروں کی مدد اور سچائی کے راستے میں استعمال کیا جائے۔
* اگر اللہ نے مال و دولت دی ہے، تو اس میں سے غریبوں کا حق نکالا جائے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچا جائے۔
* اگر اللہ نے علم یا کوئی ٹیکنالوجی دی ہے، تو اس سے معاشرے کی اخلاقی اور معاشی اصلاح کا کام لیا جائے۔
حاصلِ کلام
سورۃ التکاثر کی یہ آخری آیت ہمیں ایک بہت بڑا لائف پلان (Life Plan) دیتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کی ہر آسائش اپنے پیچھے ایک جوابدہی رکھتی ہے۔ جب ایک مومن کے دل میں یہ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ “مجھ سے ایک ایک سائے، پانی کے ایک ایک گھونٹ اور زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لیا جانا ہے”، تو اس کی زندگی سے حرص، لالچ، تکبر اور حقوق العباد کی پامالی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وہ معاشرے کا ایک دیانت دار، مخلص اور شاکر انسان بن جاتا ہے، جس کا جینا اور مرنا صرف رب العالمین کے لیے ہوتا ہے۔

الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں تیرے احکامات پر تیرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طریقے پر عمل کرنے والا بنا۔

آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں