مگر پٹرول تو سستا ہو گیا ہے
مگر پٹرول تو سستا ہو گیا ہے
اور جب صور پھونکا جاے گا مردے اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے میدان حشر سجا دیا جاے گا اعمال کی جانچ پڑتال شروع ہو جاے گی اس عالم میں کوئی بھی کسی کا آشنا نہ ہو گا ہر کسی کو اپنی اپنی پڑ جاے گی کبھی کبھی مجھے یہ سوال الجھن میں ڈال دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر الجھن اور پریشانی کو کھول کھول کے بتا دیا بھولے بھٹکے جاہل انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں امن اور سکون کے داعی بن کر اللہ کا پیغام محبت ساری دنیا تک پہنچا کے بھی اگر اللہ کا پیغام روح انسانی تک نہ پہنچا پاے تو پھر شعور کی موت تو اپنے آپ ہی ہو گءی ناں. اور ویسے بھی ہم بھیانسانوں کو خواہ مخواہ ہی کاکا چوچا بننے کا مرض لاحق ہو چکا ہے ہم آگاہی کے جام چڑھا کے بھی اندھے، گونگے اور بہرے پن کے فن سے خوب آشنا ہیں. کیا ہمیں خبر نہیں کہ یہ دنیا اور دنیاوی عیش و آرام صرف چند روزہ ٹھکانہ ہے اور اس چند روزہ ٹھکانے کی ہر شے ہی اسی دنیا کا ہی خزانہ ہے ہمارے ساتھ ماسوائے ہمارے اعمال کے کچھ نھی نہیں جانے والا تو پھر بھی ہم. اپنے اعمال کی گرد جھاڑنے کی بجاے کیوں اپنے خزانے، بینک بیلینس اور عمارات کی اینٹوں کو بڑھاوا دینے میں لگے رہتے ہیں. کتنی عجیب بات ہے ناں کہ ہم جان بوجھ کے گونگے، بہرے اور اندھے بنے رہتے ہیں