40

ڈاکٹر ایم۔ لال واگھانی کے حق میں عدالتی فیصلہ، سوشل میڈیا پر مبینہ ہتکِ عزت کیس میں PECA ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم

ڈاکٹر ایم۔ لال واگھانی کے حق میں عدالتی فیصلہ، سوشل میڈیا پر مبینہ ہتکِ عزت کیس میں PECA ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم
عمرکوٹ (رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف)
معزز عدالت ایڈیشنل سیشن جج-I عمرکوٹ نے ڈاکٹر ایم۔ لال واگھانی کی جانب سے دفعہ 22-A ضابطہ فوجداری کے تحت دائر درخواست منظور کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مبینہ ہتکِ عزت اور بدنامی پھیلانے کے الزام میں نامزد ملزمان کے خلاف PECA ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر ایم۔ لال واگھانی نے تقریباً ایک ماہ اور چار دن قبل معزز عدالت میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بعض افراد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے خلاف جھوٹی، توہین آمیز اور ہتکِ عزت پر مبنی مہم چلائی، جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
درخواست کی پیروی سندھ ہائی کورٹ کے معروف قانون دان ایڈووکیٹ صدام حسین چانڈیو نے کی۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد معزز عدالت نے متعلقہ پولیس حکام کو ہدایت جاری کی کہ نامزد ملزمان کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت قانونی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی جائے۔
ذرائع کے مطابق اس مقدمے میں سامارو سے تعلق رکھنے والے سات افراد نامزد کیے گئے ہیں، جن پر سوشل میڈیا کے ذریعے مبینہ طور پر ہتکِ عزت اور غلط معلومات پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر ایم۔ لال واگھانی نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ حق، سچ اور انصاف کی فتح ہے اور قانون کی بالادستی پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور کردار کشی کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرنا ہر شہری کا حق ہے۔
قانونی حلقوں نے بھی اس فیصلے کو سائبر جرائم اور آن لائن ہتکِ عزت کے خلاف قانون کے مؤثر نفاذ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں