24

*ڈاکٹر عمر چھاپرا کی وفات عالمِ اسلام، پاکستان اور سعودی عرب کے لیے بڑا نقصان ہے، معروف جرنلسٹ جاوید صدیقی*

*ڈاکٹر عمر چھاپرا کی وفات عالمِ اسلام، پاکستان اور سعودی عرب کے لیے بڑا نقصان ہے، معروف جرنلسٹ جاوید صدیقی*

*اسلامی معاشیات کے فروغ میں ڈاکٹر عمر چھاپرا کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*

*پاکستان کا ایک عظیم دماغ، ممتاز ماہرِ معاشیات اور عالم ہم سے جدا ہوگیا، جاوید صدیقی*

*ڈاکٹر عمر چھاپرا کی علمی و تحقیقی میراث آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، کالمکار جاوید صدیقی*

*سعودی عرب کے مالیاتی اور بینکاری نظام کی تشکیل میں ڈاکٹر عمر چھاپرا کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، معروف جرنلسٹ جاوید صدیقی*

*جاوید صدیقی جرنلسٹ کی جانب سے ڈاکٹر عمر چھاپرا کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: عھد ساز شخصیت پاکستانی نژاد سعودی ماہرِ معاشیات ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

کراچی کے معروف و سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے نامور پاکستانی نژاد سعودی ماہرِ معاشیات، اسلامی اقتصادیات کے ممتاز اسکالر اور عالمی شہرت یافتہ دانشور ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انکی زندگی کے متعلق بتایا کہ ڈاکٹر عمر چھاپرا پاکستان کا فخر تھے جنہوں نے تقریباً چھ دہائیوں تک سعودی عرب میں رہ کر معاشی پالیسی سازی، بینکاری اور مالیاتی نظام کے استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔ ان کے انتقال سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پاکستان، عالمِ اسلام اور بین الاقوامی معاشی حلقے ایک عظیم دانشور اور ماہرِ معاشیات سے محروم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عمر چھاپرا نے اسلامی معاشیات کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اس شعبے میں گراں قدر تحقیقی اور علمی خدمات انجام دیں۔ ان کی تصانیف، تحقیقی مقالات اور نظریات آج بھی دنیا بھر کی جامعات، مالیاتی اداروں اور پالیسی ساز حلقوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ وہ علم، دیانت، سادگی اور خدمتِ خلق کا بہترین نمونہ تھے اور نوجوان ماہرینِ معاشیات کے لیے ایک مثالی استاد اور رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ جاوید صدیقی نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عمر چھاپرا سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی میں سعودی عرب منتقل ہونے والے اولین پاکستانیوں میں شامل تھے۔ اُس وقت وہ امریکہ کی یونیورسٹی آف وسکونسن اور یونیورسٹی آف کینٹکی میں معاشیات پڑھا رہے تھے جب سعودی عربین مانیٹری ایجنسی (سما) نے انہیں سعودی عرب آنے کی پیشکش کی۔ وہ (سما) کے پہلے پاکستانی ملازم تھے اور شاہ فیصل کے دور میں سعودی عرب کے بینکاری اور مالیاتی نظام کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جاوید صدیقی نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر چھاپرا کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں سنہ انیس سو نوے عیسوی میں اسلامی مطالعات کے شعبے میں شاہ فیصل انٹرنیشنل پرائز سے نوازا گیا جبکہ سعودی عرب نے ان کی خدمات کے صلے میں انہیں سعودی شہریت بھی عطا کی۔ وہ جدہ میں اسلامی ترقیاتی بینک کے اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے مشیر بھی رہے اور اسلامی مالیاتی نظام کے فروغ کے لیے ان کی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ کراچی کے معروف و سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، شاگردوں اور چاہنے والوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جاوید صدیقی جرنلسٹ نے کہا کہ ڈاکٹر عمر چھاپرا کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا اور ان کی علمی و فکری خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا تیرانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ مسجد الحرام میں ادا کی گئی جبکہ تدفین مکہ مکرمہ کے تاریخی قبرستان جنت المعلیٰ میں کی گئی۔ وہ فاران کلب انٹرنیشنل کے بانی صدر عبد الرحمن چھاپرا کے چھوٹے بھائی تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں