گرین جرنلزم کانفرنس کامسٹیک سکیرٹریٹ اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس کے مہمانان خصوصی وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور ممبر قومی اسمبلی فرحان چشتی تھے۔
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق فیڈرل اردو یونیورسٹی کے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ اور او آئی سی کامسٹیک کے زیر اہتمام “گرین جرنلزم” کانفرنس کامسٹیک سکیرٹریٹ میں منعقد ہوئی۔ ماحولیاتی تحفظ اور ‘سر سبز پاکستان’ کے لئے میڈیا کا استعمال’ کے تھیم کے تحت منعقدہ کانفرنس کے مہمانان خصوصی وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور ممبر قومی اسمبلی فرحان چشتی تھے۔ عطا تارڑ نے فیڈرل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور اساتذہ و طلبہ کی ماحولیات اور میڈیا کیلئے کردار کو سراہا۔ کانفرنس کے پیٹرن ان چیفس کامسٹیک کے کو آرڈینیٹر جنرل ڈاکٹر اقبال چوہدری اور وائس چانسلر اردو یونیورسٹی ڈاکٹر ضابطہ شنواری تھے۔ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے کانفرنس میں گرین جرنلزم پر خصوصی لیکچر دیا۔ ان کا کہنا تھا میڈیا کا بنیادی کام سچ اور حقائق کو لوگوں تک پہنچانا ہے۔ اس کیلیے پیشہ وارانہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ میڈیا جتنا زیادہ ذمہ دار ہو گا، ملک و قوم کو فائدہ ہو گا۔ پاکستان اس وقت ماحولیاتی بحران سے گزر رہا ہے۔ لھذا میڈیا کو نہ صرف موسمیاتی مسائل کو اجاگر کرنا چاہیے، بلکہ ماہرین کی آرا کی روشنی میں حل بھی تجویز کرنا چاہیے۔ ایک سرسبز پاکستان اور ہرا بھرا کل آنے والی نسلوں کو دینا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ اور اس فرض کی بجا آوری میں میڈیا کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر ضابطہ شنواری نے پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کا شکریہ ادا کیا کہ فیڈرل اردو یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کو اپنے ادارے کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کا کہنا تھا کہ میڈیا ورکرز خصوصا نوجوان صحافیوں کو ٹرینڈ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کامسٹیک ایک باشعور اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کرتا ہے۔ ممبر قومی اسمبلی فرحان چشتی نے کہا کہ ایک تعلیمی ادارے یعنی اردو یونیورسٹی نے ملک کی اولین گرین جرنلزم کانفرنس کا انعقاد کر کے وہ کام کیا ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے کرنے کا تھا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری ایک ویژنری سائنسدان ہیں۔ ان جیسے شیخ الجامعہ سے ایسے بڑے علمی و تحقیقی کام کی ہی توقع ہے۔ گرین جرنلزم کانفرنس میں انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی نمائندگی کرتے ہوئے کینیا کی ماہر ماحولیات ڈاکٹر مارگریٹ اوٹینیو کا پیغام سنایا گیا۔ کانفرنس سے خطاب میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر فیصل جاوید نے کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ شنواری کے ویژن کی عکاسی ہے کہ اردو یونیورسٹی تعلیمی میدان میں دن بدن آگے بڑھ رہی ہے۔ کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر اس کے روح رواں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سکندر زرین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ کانفرنس سیکرٹری ڈاکٹر سکندر زرین کا کہنا تھا کہ ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ اردو یونیورسٹی نے ‘گرین جرنلزم’ کے تصور کو عملی جامہ پہنایا۔ اس کا نصاب کورس میں پڑھایا جاتا ہے۔ ہم اپنے ڈیپارٹمنٹ سے تربیت یافتہ میڈیا پرسنز اور گرین سٹیزن معاشرے کو دیتے ہیں۔ شیخ الجامعہ ڈاکٹر شنواری کی مسلسل محنت اور حوصلہ افزائی کے نتیجے میں گرین جرنلزم کانفرنس منعقد ہوئی۔ ڈاکٹر سکندر زرین نے کامسٹیک کے سی جی ڈاکٹر اقبال چوہدری اور ڈاکٹر جاوید خورشید کا شکریہ ادا کیا۔ گرین جرنلزم کانفرنس میں ماحولیاتی ماہرین اور میڈیا پروفیسرز نے تحقیقی مقالے پیش کئے۔ طلبہ نے ریسرچ پوسٹرز پیش کئے۔ ڈاکٹر سکندر زرین کی زیر نگرانی ریسرچ پوسٹرز میں ماحولیاتی مسائل اور ان کا حل، نیز بہتر ماحول کے لیے میڈیا کا استعمال جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا تھا۔ سٹوڈنٹس کی ڈاکومنٹریز بھی پیش کی گئیں۔ملک کے معروف صحافی اور اینکرز پرسنز جاوہد چوہدری، طلعت حسین، اعزاز سید، روف کلاسرااور ماہ نور قریشی نے بھی اظہار خیال کیا۔ کانفرنس میں ماہرین ماحولیات، مختلف جامعات کے پروفیسرز، اردو یونیورسٹی کے طلبہ اساتذہ، غیر ملکی مندوبین، سفراء اور ڈپلومیٹس نے بھی شرکت کی۔