سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجرل قوانین کے مطابق کسی بھی فیصلے کے آتھر جج کے بغیر ریویو پٹیشن نہیں سنی جا سکتی اور ریویو پٹیشن میں بھی اکثریتی فیصلے والا بینچ ہی بیٹھے گا پانچ رکنی بینچ جس نے 63 A کا فیصلہ دیا تھا وہ فیصلہ تین دو کی اکثریت سے آیا تھا عمر عطا بندیال ریٹائرڈ ہو چکا اعجاز
*سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجرل قوانین کے مطابق کسی بھی فیصلے کے آتھر جج کے بغیر ریویو پٹیشن نہیں سنی جا سکتی اور ریویو پٹیشن میں بھی اکثریتی فیصلے والا بینچ ہی بیٹھے گا پانچ رکنی بینچ جس نے 63 A کا فیصلہ دیا تھا وہ فیصلہ تین دو کی اکثریت سے آیا تھا عمر عطا بندیال ریٹائرڈ ہو چکا اعجاز الاحسن سے جبری استعفیٰ لے لیا گیا اب باقی بچا جسٹس منیب اختر کاذی سپریم کورٹ کے ادارہ جاتی قوانین کو بائپاس کر ہی نہیں سکتا اور منیب اختر کے بغیر ریویو پٹیشن سن ہی نہیں سکتا کیونکہ منیب اختر اس فیصلے کا آتھر جج ہے جس کا ریویو پٹیشن میں بیٹھنا ضروری ہے اگر نہیں بیٹھتا تو ریویو پٹیشن کا فیصلہ ادارتی قوانین کے مطابق ہو ہی نہیں سکتا پھر معاملہ فل کورٹ کی طرف جائے گا اسکرین شاٹ لے لیں اگر کاذی سپریم کورٹ کے قوانین کی وائلیشن کرتا ہے اور ایک دوسرا بینچ بنا کر ریویو پٹیشن سنتا ہے اور فیصلہ دے دیتا ہے تو منصور علی شاہ اور دیگر ہم خیال ججز اس فیصلے کے خلاف فل کورٹ کی ڈیمانڈ کریں گے معاملہ اتنا سادہ نہیں