اگر لودھراں پولیس کے ایسے چند ناموں کا ذکر کیا جائے جنہوں نے اپنی محنت، قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے اپنی شناخت بنائی تو سب انسپکٹر عمران عمر کا نام یقیناً ان میں نمایاں نظر آتا ہے۔ جب عمران عمر نے پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی تو بعد شاید کسی کو اندازہ نہ ہوگا کہ آنے والے برسوں میں وہ ضلع لودھراں کی پولیس کے اہم ترین اور قابل اعتماد افسران میں شمار ہوں گے۔
2012 میں اس وقت کے ڈی پی او لودھراں آغا یوسف نے پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ کے آفیسر یا ترجمان پولیس کی سیٹ کے لئے انٹرویوز کئے۔ آغا یوسف نے اس اہم سیٹ پر نوجوان اور نئے بھرتی ہونے والے اے ایس آئیز میں سے عمران عمر کا انتخاب کیا وقت نے ثابت کیا کہ آغا یوسف کا یہ بہترین فیصلہ تھا کیونکہ عمران عمر نے برسوں تک پولیس کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے، عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے اور محکمانہ وقار میں اضافے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا۔
محکمے میں بعض لوگ مخصوص ذمہ داریوں تک محدود رہتے ہیں جبکہ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو جہاں بھی ضرورت پڑے خود کو اس کردار کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ عمران عمر بھی انہی افسران میں شامل ہیں۔ انہیں جب بھی کسی نئی ذمہ داری کیلئے کہا گیا تو ان کے پاس ہمیشہ ایک ہی جواب تھا، “یس سر”۔ یہی وہ وصف ہے جو کسی بھی ادارے کے اہلکار کو ایک عام ملازم سے اس ادارے کا قیمتی اثاثہ بناتا ہے جو مہ عمران عمر نے خود کو ثابت بھی کیا ۔
لودھراں پولیس میں مختلف ادوار کے دوران جب نئے منصوبے متعارف کرانے اور جدید طرز خدمت اپنانے کی بات ہوئی تو عمران عمر ہمیشہ صف اول میں نظر آئے۔ خصوصاً اسد سرفراز جیسے متحرک اور نئے آئیڈیاز پر یقین رکھنے والے افسران کے دور میں وہ ان ٹیم ممبرز میں شامل رہے جنہوں نے نئے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور کامیاب بنانے کیلئے عملی طور پر دن رات محنت کی۔ ضلع لودھراں میں قائم کئے گئے خدمت مراکز ہوں یا 15 آفس یا دیگر عوامی فلاحی منصوبے، عمران عمر کا کردار ہمیشہ قابل ذکر رہا۔
پولیس کے ضلعی دفاتر میں کام کرنا بظاہر آسان سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وہاں ذمہ داریوں کا دائرہ وسیع، جوابدہی زیادہ اور کام کی نوعیت مسلسل بدلتی رہتی ہے۔ عمران عمر نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بڑا حصہ انہی حساس اور اہم ذمہ داریوں میں گزارا جہاں دن اور رات کا فرق اکثر مٹ جاتا ہے۔ انہوں نے وہ فرائض سرانجام دیے جن میں معمولی سی غفلت بھی پورے نظام کو متاثر کر سکتی تھی، مگر انہوں نے ہر موقع پر اپنے افسران کے اعتماد کو برقرار رکھا۔
بعد ازاں جب محکمانہ قیادت نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے فیلڈ میں بطور ایس ایچ او ذمہ داری سونپی تو انہوں نے اسے عوامی خدمت کا نیا موقع سمجھا۔ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے زائد مختلف تھانوں میں بطور ایس ایچ او تعیناتی دراصل ان کی صلاحیتوں اور کارکردگی کا عملی اعتراف ہے۔ پولیس کے نظام میں کسی افسر کا اہم تھانوں کی سربراہی کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اعلیٰ حکام اس کی پیشہ ورانہ اہلیت پر اعتماد رکھتے ہیں۔
بطور ایس ایچ او ان کی پہلی تعیناتی تھانہ جلہ آرائیں میں ہوئی جہاں انہوں نے قانون نافذ کرنے جرائم کی روک تھام اور عوامی مسائل کے حل کیلئے بھرپور کردار ادا کیا۔ بعد ازاں تھانہ قریشی والا میں تعیناتی کے دوران بھی لاء اینڈ آرڈر ہو یا دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال ایسے ہنگامی اور مشکل حالات میں عمران عمر صرف دفتر تک محدود نہیں رہے بلکہ سیلاب زدہ علاقوں میں موجود رہ کر امدادی سرگرمیوں، عوامی تحفظ اور انتظامی امور میں متحرک کردار ادا کرتے رہے۔ متاثرہ خاندانوں کی مدد اور ان کی مشکلات کے ازالے کیلئے ان کی کاوشیں قابل تحسین رہیں۔
تھانہ سٹی دنیاپور میں بھی کامیاب اور بہترین دور گزارا، عوامی رابطے، جرائم کی روک تھام اور انتظامی امور میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ایک بار پھر ڈی پی او لودھراں نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں تھانہ قریشی والا کی بطور مہتمم ذمہ داری سونپی ہے۔ کسی بھی افسر کیلئے اس سے بڑا اعزاز شاید یہی ہوتا ہے کہ ادارہ بار بار اس کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرے۔
پولیس کی ملازمت میں اصل امتحان صرف اختیارات استعمال کرنا نہیں بلکہ مسلسل دباؤ، عوامی توقعات، محدود وسائل اور پیچیدہ حالات میں بھی بہترین کارکردگی دکھانا ہوتا ہے۔ عمران عمر کی پیشہ ورانہ زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ محنت، دیانت اور فرض شناسی کا کوئی متبادل نہیں۔ انہوں نے ہر ذمہ داری کو ایک نئے چیلنج کے طور پر قبول کیا اور ہر بار خود کو پہلے سے بہتر ثابت کرنے کی کوشش کی۔
ایسے افسران کسی بھی ادارے کیلئے سرمایہ ہوتے ہیں اور دوسرے اہلکاروں کیلئے ایک مثال بھی قائم کرتے ہیں کہ کامیابی سفارش، شور شرابے یا تشہیر سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، اچھے کردار اور ذمہ داری کے احساس سے حاصل ہوتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ چھوٹے بھائی عمران عمر کو مزید ہمت، استقامت اور کامیابی عطا فرمائے اور انہیں اسی طرح عوامی خدمت اور محکمانہ وقار میں اضافے کا ذریعہ بنائے۔
Ìmran Umer Lodhran Police #PunjabPolice
سیاست کےنام پر انتشار پھیلانے والوں سے اب کسی قسم کی بات نہیں ہوگی۔وزیراعظم آزاد کشمیر
خیبرپختونخوا سے امتیازی سلوک ہو رہا ہے، اس سے نفرتیں بڑھیں گی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
جی بی میں ہرطرف شیر، شیر کی آوازیں آرہی ہیں، پی ٹی آئی کے امیدوار پورے نہیں وہ قبل ازوقت دھاندلی کا واویلا کس منہ سے کررہے۔عظمیٰ بخاری
ہونہار بچے ملک کا قیمتی اثاثہ اور مستقبل کے معمار ہے۔گورنر خیبرپختونخوا
چیئرمین کوہاٹ بورڈ محمد امتیاز ایوب کا مختلف پریکٹیکل لیب کے دوروں کا سلسلہ بدستور جاری۔