62

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: تصویر کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھا* *کالمکار: جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: تصویر کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھا*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

آج میں اپنے معزز قارئین کو ایک ماضی کی تصویر دکھاتا ھوں جس سے ہمارے پولیٹیکل سائنس، شوشلسٹ، پبلک ریلیشن، انٹرنیشنل ریلیشن اور اکنامکس کے طالبہ و طالبات کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا، تاریخ کے ان سطور میں ہر سو نظام کی تصویر چھلتی نظر آئیگی جو طلبہ و طالبات کیلئے غور و فکر توجہ اور تحقیق کے حوالے سے نہایت مفید ثابت ہوسکتی ھے۔ آج پاکستان جس حالت سے دوچار ھے آئینہ کے پس پشت بھی دیکھنا ضروری ھے ۔۔۔ معزز قارئین!! تیئس مارچ سنہ انیس سو اکسٹھ عیسوی کی یہ تصویر محض ایک سرکاری اعزازی تقریب کی تصویر نہیں، بلکہ پاکستان کی ابتدائی سیاسی، تہذیبی اور آئینی تاریخ کا ایک گہرا اور تلخ استعارہ ہے۔ اس تصویر میں صدر ایوب خان، شیرِ بنگال اے کے فضل الحق کو *”نشانِ پاکستان“* عطا کررہے ہیں۔ وہی فضل الحق جنہوں نے تیئس مارچ سنہ انیس سو چالیس عیسوی کو لاہور کے منٹو پارک میں وہ تاریخی قرارداد پیش کی تھی جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کہا گیا۔ یہ حقیقت بھی تاریخ کے عجیب ترین تضادات میں سے ایک ہے کہ جس شخص نے قیامِ پاکستان کی سب سے اہم قرارداد پیش کی، وہی چند برس بعد مسلم لیگ کی مرکزی قیادت سے اختلافات کے باعث جماعت سے الگ کردیئے گئے۔ فضل الحق صرف ایک سیاستدان نہیں تھے بلکہ بنگال کے عوامی شعور کی آواز تھے۔ اسی لئے انہیں *”شیرِ بنگال“* کہا جاتا تھا۔ انکی سیاست جاگیردارانہ اشرافیہ کی سیاست نہیں بلکہ عام آدمی، کسان اور بنگال کے محروم عوام کی سیاست تھی۔ قائداعظم سے اختلافات کے بعد انہیں مسلم لیگ سے نکالا گیا، مگر مشرقی بنگال میں انکی عوامی مقبولیت برقرار رہی۔ سنہ انیس سو چوون عیسوی کے مشرقی پاکستان کے انتخابات میں انہوں نے حسین شہید سہروردی اور مولانا بھاشانی کے ساتھ *”متحدہ محاذ“* قائم کیا اور مسلم لیگ کو ایسی عبرتناک شکست دی کہ مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ تقریباً صفحۂ سیاست سے مٹ گئی۔ متحدہ محاذ نے تین سو نو میں سے دو سو تیئس نشستیں حاصل کیں اور فضل الحق وزیرِاعلیٰ بنے، مگر جلد ہی اسکندر مرزا اور مرکزی اسٹیبلشمنٹ نے انکی حکومت برطرف کردی۔ گویا جس عوامی مینڈیٹ نے مشرقی پاکستان کی آواز بننے کی کوشش کی، اسے طاقت کے ایوانوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ تصویر میں دوسری اہم شخصیت مولوی تمیز الدین خان ہیں، جو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پاکستان میں آئینی بالادستی کی حقیقی جنگ لڑی۔ جب سنہ انیس سو چوون عیسوی میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ دی تو مولوی تمیز الدین خان نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا۔ سندھ چیف کورٹ نے انکے حق میں فیصلہ دیا، مگر بعد میں فیڈرل کورٹ نے گورنر جنرل کے اقدام کو جائز قرار دیدیا یہی وہ مقدمہ تھا جس نے پاکستان میں بعد کی آمریتوں اور *“نظریۂ ضرورت”* کی بنیاد رکھی۔ روایت ہے کہ مولوی تمیز الدین خان گرفتاری یا سرکاری رکاوٹوں سے بچنے کیلئے برقع پہن کر عدالت پہنچے تھے۔ یہ منظر دراصل اس دور کے خوف، دباؤ اور آئینی بے بسی کی علامت تھا۔ مگر تاریخ کا المیہ دیکھئے کہ یہی مولوی تمیز الدین خان بعد میں ایوب خان کے سنہ انیس سو باسٹھ عیسوی کے آئین کے تحت بننے والی قومی اسمبلی کے اسپیکر بن گئے۔ گویا وہ شخص جس نے آئین اور جمہوریت کیلئے لڑائی لڑی، آخرکار اسی فوجی نظام کا حصہ بننے پر مجبور ہوگیا جس نے جمہوری تسلسل کو توڑا تھا۔ تیسری اہم شخصیت ابوالہاشم ہیں، جو بنگال مسلم لیگ کے نہایت اہم فکری رہنما، منتظم اور نظریہ ساز تھے۔ انہوں نے بنگال میں مسلم لیگ کو عوامی سطح پر منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ متحدہ بنگال کے تصور سے بھی وابستہ رہے اور تقسیم کے بعد بھی مشرقی پاکستان کی سیاست میں ایک فکری اور نظریاتی آواز کے طور پر زندہ رہے بعد کے برسوں میں وہ اقتدار کے مرکزی دھارے سے دور ہوتے گئے، مگر ان کی فکری اہمیت برقرار رہی۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بھی وہ زندہ رہے اور سنہ انیس سو چوہتر عیسوی میں انکا انتقال ہوا۔ انکی پوری زندگی اس بات کی علامت رہی کہ پاکستان بنانے والی بنگالی قیادت کو رفتہ رفتہ اقتدار کے اصل مراکز سے الگ کر دیا گیا۔ یوں یہ تصویر صرف ایک اعزازی تقریب کی تصویر نہیں رہتی بلکہ دو مختلف پاکستانیوں کی علامت بن جاتی ہے۔ ایک وہ پاکستان جو فضل الحق، سہروردی، مولوی تمیز الدین خان اور ابوالہاشم جیسے عوامی رہنماؤں کے ذہن میں تھا، جہاں مقامی ثقافت، زبان، عوامی سیاست اور وفاقی توازن کی جگہ تھی اور دوسرا وہ پاکستان جو رفتہ رفتہ فوجی اشرافیہ، سول بیوروکریسی اور نوآبادیاتی طرز کے حکمران طبقے کے قبضے میں چلا گیا، جہاں اقتدار کی زبان بھی مختلف تھی، لباس بھی مختلف تھا اور ذہن بھی مختلف۔ یہ تصویر ایک اور تلخ سوال بھی اٹھاتی ہے۔ مشرقی پاکستان کے وہ رہنما جنہوں نے پاکستان بنانے میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا، آخر انہی کو بعد میں کیوں دیوار سے لگایا گیا؟ فضل الحق کی منتخب حکومت برطرف ہوئی، تمیز الدین خان کی آئینی جدوجہد کچل دی گئی، ابوالہاشم جیسے نظریاتی رہنما حاشیے پر ڈال دیئے گئے پھر وقت نے انہیں اسی ریاستی ڈھانچے کے سامنے لا کھڑا کیا جہاں کبھی وہ عوامی طاقت کی علامت تھے اور اب فوجی اقتدار کے زیرِ سایہ کھڑے تھے۔ شائد یہی وہ فاصلے تھے جو بعد میں صرف سیاست میں نہیں بلکہ دلوں میں بھی پیدا ہوئے اور جنکی آخری المناک منزل سنہانیس سو اکہتر عیسوی میں سامنے آئی۔ تیئس مارچ سنہ انیس سو اکسٹھ عیسوی کی یہ تصویر محض ایک سرکاری اعزازی تقریب کی تصویر نہیں، بلکہ پاکستان کی ابتدائی سیاسی، تہذیبی اور آئینی تاریخ کا ایک گہرا اور تلخ استعارہ ہے۔ اس تصویر میں صدر ایوب خان، شیرِ بنگال اے کے فضل الحق کو *”نشانِ پاکستان“* عطا کررہے ہیں۔ وہی فضل الحق جنہوں نے تیئس مارچ سنہ انیس سو چالیس عیسوی کو لاہور کے منٹو پارک میں وہ تاریخی قرارداد پیش کی تھی جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کہا گیا۔ یہ حقیقت بھی تاریخ کے عجیب ترین تضادات میں سے ایک ہے کہ جس شخص نے قیامِ پاکستان کی سب سے اہم قرارداد پیش کی، وہی چند برس بعد مسلم لیگ کی مرکزی قیادت سے اختلافات کے باعث جماعت سے الگ کردیئے گئے۔ معزز قارئین جب آپ تاریخ پاکستان کا مطالعہ کریں گے تو یقیناً آپکی سوچ کا دائرہ درست اور صحیح سمت رہیگا اور آپ حق و سچ جاننے سمجھنے میں پریشانی اور الجھن کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا ہماری پاکستانی نسل کو تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے تاکہ جذباتی فیصلے کے بجائے مدبرانہ محققانہ سوچ کیساتھ اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں اس سے سب سے زیادہ پاکستانی قوم کو خود ہوگا کہ اسے کوئی بھی بآسانی نہ بیوقوف بناسکے گا اور نہ ہی گمراہ کرسکے گا۔ یہ ملک ھم سب کا ھے اور اس کی ترقی خوشحالی اور امن و امان کی ملت کے ہر فرد پر ذمہداری عائد ہوتی ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں