18

میرپورخاص (شاھدمیمن) صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو ایک روزہ دورے

میرپورخاص (شاھدمیمن) صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو ایک روزہ دورے پر میرپورخاص پہنچیں، جہاں انہوں نے کمشنر کمیٹی ہال میں ڈویژن بھر کے محکمہ صحت کے افسران کے اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں عوام کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے، اسپتالوں میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے اور انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول (IPC) سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں کمشنر میرپورخاص سبھاش چندر، ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر وقار میمن، ڈاکٹر سید آصف علی شاہ، ڈپٹی کمشنر نواب سمیر حسین لغاری، میئر عبدالروف غوری، ایس ایس پی سید فدا حسین شاہ، ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر عبدالشکور جروار، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، پی پی ایچ آئی کے ضلعی منیجرز، مختلف تعلقہ اسپتالوں کے ایم ایس اور ڈاکٹرز نے شرکت کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ محکمہ صحت حکومت سندھ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، صحت مند زندگی کے لیے چھوٹی چھوٹی احتیاطی تدابیر اپنانا ناگزیر ہے جبکہ اسپتالوں میں صفائی، حفظان صحت اور بنیادی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ بیکٹیریا، وائرس اور دیگر جراثیم کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول ایک منظم نظام ہے جس کے ذریعے مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سیمینارز اور تربیتی پروگرامز منعقد کیے جا رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام مختلف ڈویژنل سطح پر جاری ہیں، جن میں سکھر، شہید بینظیر آباد اور اب میرپورخاص ڈویژن شامل ہیں جبکہ آئندہ حیدرآباد اور کراچی میں بھی ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے میڈیا کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں سہولیات کی کمی، ماہر ڈاکٹرز کی عدم دستیابی اور دیگر مسائل سے متعلق سوالات پر صوبائی وزیر نے کہا کہ متعلقہ مسائل کی فہرست مرتب کرکے ضلعی انتظامیہ کے ذریعے انہیں فراہم کی جائے تاکہ ان کے حل کے لیے اقدامات کیے جاسکیں ایم پاکس (Mpox) کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت میرپورخاص میں ایم پاکس کے کیسز موجود نہیں جبکہ خیرپور میں سامنے آنے والے کیسز کو بھی کنٹرول کر لیا گیا ہے اور صورتحال قابو میں ہے اس موقع پر کمشنر میرپورخاص سبھاش چندر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کے افسران اور عملے نے تربیتی پروگرام میں شرکت کی اور اسپتالوں میں بہتر طبی طریقہ کار سے متعلق آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے ریسکیو سروس 1122 سے متعلق شکایات پر کہا کہ وسائل اور ایمبولینسز کی محدود تعداد کے باوجود یہ سروس 24 گھنٹے فعال ہے، تاہم عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں