23

ڈی سی چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد۔

ڈی سی چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد۔

اجلاس میں پاک آرمی، ڈی پی او چارسدہ، قانون نافذ کرنے والے اور حساس اداروں کے نمائندگان و دیگر افسران نے شرکت کی۔

چارسدہ(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاک آرمی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، قانون نافذ کرنے والے اور حساس اداروں کے نمائندگان سمیت متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سابقہ اجلاسوں میں جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے مختلف شعبوں میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو کارکردگی مزید بہتر بنانے اور جاری اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ہدایات جاری کیں۔ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر نے بلاک شدہ CNIC کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے، ACC کارڈ ہولڈرز اور غیر مقیم افراد کی مکمل ویریفیکیشن و مانیٹرنگ، اور تمام غیر رجسٹرڈ مدارس کی فوری قانونی رجسٹریشن کے احکامات جاری کئے۔اجلاس میں ضلع بھر کو منشیات خصوصاً آئس جیسے ناسور سے پاک کرنے کے لیے بھرپور کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ غیر قانونی کرش پلانٹس، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز، غیر قانونی اسلحہ، ایل فور (L4) اسلحہ لائسنسز کے آڈٹ، اور غیر قانونی سم کارڈز کے خلاف سخت کارروائیوں کے احکامات بھی جاری کئے گئے۔اجلاس میں فرقہ واریت، دہشت گردی کی مالی معاونت، اسمگلنگ اور دھماکہ خیز مواد کے تدارک کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب شہید کیس پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت جاری کی کہ کیس کی تحقیقات کو مزید مؤثر، شفاف اور تیز رفتار بنایا جائے تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر نے تمام اداروں پر زور دیا کہ قانون کی بالادستی، شہریوں کے تحفظ اور ضلع میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ان فیصلوں پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی ریلیف اور بہتر طرزِ حکمرانی کے ثمرات عام شہری تک پہنچ سکیں۔ سی چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد۔

اجلاس میں پاک آرمی، ڈی پی او چارسدہ، قانون نافذ کرنے والے اور حساس اداروں کے نمائندگان و دیگر افسران نے شرکت کی۔

چارسدہ(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاک آرمی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، قانون نافذ کرنے والے اور حساس اداروں کے نمائندگان سمیت متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سابقہ اجلاسوں میں جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے مختلف شعبوں میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو کارکردگی مزید بہتر بنانے اور جاری اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ہدایات جاری کیں۔ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر نے بلاک شدہ CNIC کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے، ACC کارڈ ہولڈرز اور غیر مقیم افراد کی مکمل ویریفیکیشن و مانیٹرنگ، اور تمام غیر رجسٹرڈ مدارس کی فوری قانونی رجسٹریشن کے احکامات جاری کئے۔اجلاس میں ضلع بھر کو منشیات خصوصاً آئس جیسے ناسور سے پاک کرنے کے لیے بھرپور کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ غیر قانونی کرش پلانٹس، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز، غیر قانونی اسلحہ، ایل فور (L4) اسلحہ لائسنسز کے آڈٹ، اور غیر قانونی سم کارڈز کے خلاف سخت کارروائیوں کے احکامات بھی جاری کئے گئے۔اجلاس میں فرقہ واریت، دہشت گردی کی مالی معاونت، اسمگلنگ اور دھماکہ خیز مواد کے تدارک کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب شہید کیس پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت جاری کی کہ کیس کی تحقیقات کو مزید مؤثر، شفاف اور تیز رفتار بنایا جائے تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر نے تمام اداروں پر زور دیا کہ قانون کی بالادستی، شہریوں کے تحفظ اور ضلع میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ان فیصلوں پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی ریلیف اور بہتر طرزِ حکمرانی کے ثمرات عام شہری تک پہنچ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں