کراچی کی بدنامِ زمانہ منشیات فروش انمول عرف “پنکی” کی گرفتاری نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہےکہ پاکستان میں منشیات کا دھندا اب صرف گلی محلوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک منظم اور بااثر نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ صرف کراچی نہیں بلکہ لاہور اور دوسرے شہروں تک اپنا نیٹ ورک چلا رہی تھی، اور پوش علاقوں، نجی پارٹیوں اور بااثر طبقے تک “ہائی اینڈ” منشیات سپلائی کی جاتی تھیں۔ پولیس کے مطابق اس کے قبضے سے کوکین، کیمیکلز اور منشیات تیار کرنے کا سامان بھی برآمد ہوا۔
اصل المیہ صرف ایک “پنکی” نہیں۔ المیہ ہے کہ یہ نیٹ ورک برسوں سے چل کیسے رہے تھے؟ اگر ایک خاتون مبینہ طور پر کھلے عام واٹس ایپ آرڈرز پر منشیات سپلائی کر رہی تھی، تو کیا اداروں کو واقعی کچھ معلوم نہیں تھا؟ یا مسئلہ وہاں پیدا ہوا جہاں “مال” خراب نکل آیا اور معاملہ اشرافیہ کے گھروں تک پہنچ گیا؟
یہ والی پنکی شاید کبھی نہ پکڑی جاتی… اگر مبینہ طور پر اس کی فراہم کردہ گھٹیا کوالٹی کی منشیات کے باعث ایک سینیٹر کی بیٹی اور ایک سابق وفاقی وزیر کا نوجوان بیٹا اوور ڈوز کا شکار نہ ہوئے ہوتے۔ ورنہ گلیوں، کچی آبادیوں اورریلوے لائنوں کےکنارے روز مرتے ہوئے غریب ہیروئنچیوں کی لاشیں ہمارے نظام کے لیے کبھی اہم خبر نہیں بنتیں۔
یہ مسئلہ صرف منشیات فروشی کا نہیں، بلکہ اس پورے منافقانہ سماجی ڈھانچے کا ہے جہاں غریب کی موت “عادت” اور امیر کی موت “سانحہ” سمجھی جاتی ہے۔ جہاں اصل خطرہ منشیات نہیں بلکہ وہ نظام بن جاتا ہے جو تب تک خاموش رہتا ہے جب تک آگ ایوانوں تک نہ پہنچ جائے۔
#سورس_پوسٹ: سندھ پولیس ابتدائی تفتیشی رپورٹس
#ExpressTribune
#GeoNews
#ARYNews