21

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی سندھ میں صنعتی ترقی کے دعوے

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی
سندھ میں صنعتی ترقی کے دعوے ، روہڑی کا صنعتی علاقہ تیس سال سے سہولیات سے محروم ، صنعت کار سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اپنی صنعتیں بند کرنے پر مجبور ،سیکڑوں لوگوں کا بے روزگار ہونے کا خدشہ ، حکومت کی توجہ دلاتے رہے ہیں مگر وہ ٹیکس وصول کرتی ہے سہولیات نہیں دیتی ،مجبور ہیں کہ اپنی صنعت بند کردیں ،یہ ہمارا نہیں سندھ کا نقصان ہوگا ،صنعتکاروں کا موقف ،

سندھ حکومت کی جانب سے ایک طرف تو صوبے میں صنعتوں کو فروغ دینے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مواقع اور سہولیات دینے کے بلند و بانگ دعوے کیے جارہے ہیں لیکن یہ بلند وبانگ دعوے صرف اجلاسوں اور جلسوں تک محدود ہیں لیکن زمینی حقائق ہیں کہ سندھ کے صنعتی علاقے سہولیات سے محروم ہیں سکھر ضلع کے علاقے روہڑی میں قائم سندھ اسمال انڈسٹریل ایریا سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کے باعث مسائل کا شکار ہے گزشتہ تیس سالوں سے قائم یہ انڈسٹریل ایریا لاوارث بنا ہوا ہے نہ پکی سڑک ہے نہ بجلی ہے نہ نکاسی و فراہمی آب کا نظام ہے علاقے میں ہر وقت جگہ جگہ گندا پانی جمع رہتا ہے اور مٹی و دھول اڑتی رہتی ہے حکومت کی توجہ اس انڈسٹریل ایریا میں سہولیات فراہم کرنے پر تو نہیں ہے لیکن حکومت یہاں پر قائم صنعتوں سے ہر تین ماہ بعد لاکھوں روپے ٹیکس وصول کرنا نہیں بھولتی روہڑی سندھ اسمال انڈسٹریز کے صنعتکاروں سریش لال ، گلاب رائے ،برج لال ، اومیش کمار ،وکرم کمار ودیگر نے بتایا کہ متعدد بار حکومت اور متعلقہ اداروں کی توجہ سندھ اسمال انڈسٹریل ایریا میں سہولیات کی عدم فراہمی اور مسائل۔کی طرف دلائی ہے لیکن کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ہے بغیر سہولیات کے ہم کیسے صنعتیں چلائیں اس لیے اب صنعتیں بند کرنے پر مجبور ہیں جس سے لوگ بھی بے روزگار ہونگے ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم صنعتیں بند کردیں تو یہ نقصان سندھ اور سندھ کے لوگوں کا ہوگا حکومت ہوش کے ناخن لے انہوں نے بتایا کہ اس انڈسٹریل میں چھیالیس پلاٹ ہیں لیکن سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف پندرہ سے بیس پر ملیں بنی ہوئی ہیں لیکن جو صورتحال نظرآرہی ہے اس میں آنے والے چند ماہ میں شاید وہ بھی باقی نہ رہیں انہوں نے حکومت سے فوری توجہ دے کر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں