40

رحیم یار خان(کرائم رپورٹر)ماڈل تھانہ اقبال آباد میں مبینہ کرپشن لوٹ مار کے الزامات شہریوں میں تشویش

رحیم یار خان(کرائم رپورٹر)ماڈل تھانہ اقبال آباد میں مبینہ کرپشن لوٹ مار کے الزامات شہریوں میں تشویش ، متاثرہ نے حصول انصاف کے لئے سراج احمد اے ایس آئی کیخلاف ڈی پی او رحیم یار خان ، آر پی او بہاول پور غازی صلاح الدین اور ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب ملتان کو درخواستیں دے دیں، شفاف انکوائری اور مبینہ اہلکاروں کیخلافت سخت کارروائی کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق شیخ واہن کے رہائشی متاثرہ محمد اکرم نے آفیسران کو دی جانے والی درخواستںوں میں موقف اختیار کیا کہ نے میں اپنی دکان پر موجود تھا کہ ماڈل تھانہ اقبال آباد کے سراج احمد اے ایس آئی نے نفری کے ہمراہ لاک ڈاؤن کی آڑ میں دکان پر دھاوا بول دیا ، اور آتے تشدد کرنا شروع کر دیا اور میری تلاشی شروع کردی ، میری جیب میں موجود میرے سالے کی امانتی رقم ایک لاکھ پینتیس ہزار روپے موجود تھی جوکہ مذکورہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر سراج احمد نے جامع تلاشی کرکے نکال لیے اور ساتھ ضروری قاغذات بھی سرقہ کرلیے ۔اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر ڈیرہ پر لے گیا اور تشدد کرتا رہا ، پھر ماڈل تھانہ اقبال آباد لےگیا ، اور ایک رات حراست میں رکھ کر مزید چودہ ہزار روپے رشوت لیکر چھوڑ دیا ، اور اپنی جامع تلاشی کی رقم کی واپسی کے تقاضے کے لئے تین دن تک تھانہ کے چکر لگاتا رہا ۔ موصوف نے کہا کہ رقم باورچی کے پاس ھے ، کل آنا ، پرسوں آنا متاثرہ نے الزام عائد کیا کہ سراج احمد اے ایس آئی نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ، جہاں میری موٹر سائیکل مکینک کی دکان ہے وہ تھانہ آباد پور موضع بہودی پور قریشیاں میں واقع ہے ، میں ایک شریف اور پر امن شہری ہوں میری کسی کیساتھ کوئی دشمنی نہ ہے ، موصوف کے فرمائشی پروگرام سے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ، ماڈل تھانہ اقبال آباد پولیس لاک ڈاؤن کی آڑ میں شیخ واہن میں تھانہ آباد پور حدد میں ایک شہری موٹر سائیکل مکینک محمد اکرم کو اٹھالیا، تو متاثرہ کی میڈیا کے ذریعے آواز اٹھائی گئی تھی تو مبینہ اطلاعات کے مطابق سراج احمد اے ایس آئی مدعی کو راضی کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے لگا ۔ اور منت سماجت کرنے لگا۔اور کہا کہ مل بیٹھ کر بات کرو ، ورنہ جھوٹے مقدمات میں ڈال دونگا ، پھر یاد کرو گے ، وقوعہ کو منظر عام پر آنے کے بعد شہری حلقوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔ جبکہ مختلف ذرائع سے دھمکیاں بھی ساتھ دلوانے لگا ، لیکن علاقے کی عوام کہنا یے ڈی پی او رحیم یار خان عرفان علی سموں کو نوٹس لینا ہو گا کہ وقوعہ کی شفاف انکوائری کرکے عوام کا دل جیت لینا چاہیے ، اس وقت شہری زیادہ پریشانی کی حالات میں نظر آرہے ہیں ، ڈی پی او کو صحافیوں کا بھی خیال رکھنا ہو گا، جو مظلوم کی آواز بنتے ہیں ، شہریوں نے کہا کہ الزامات میں صداقت موجود ہے ، تو ملوث اہلکاروں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ، شفاف انکوائری اور جانب دار انکوائری کو یقینی بنانے کے لئے انکوائری مکمل ہونے تک متعلقہ اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کیا جائے ، تاکہ کسی قسم کے اثر اسوخ یا شواہد پر اثرانداز ہونے کے امکانات ختم کیے جاسکیں ۔شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ چند کالی بھیڑیں محکمہ پولیس کی نیک نامی اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں ۔جبکہ دوسری طرف ڈی پی او رحیم یار خان عرفان علی سموں ایک محنتی فرض شناس پولیس آفیسر ہیں ۔جنکی تعیناتی سے جرائم میں واضح کمی ہوئی ہے ،تاہم بعض مبینہ کرپٹ عناصر محکمہ کو بدنام کرنے اور عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں ۔جنکے خلاف فوری کارروائی ضروری ہے ۔ متاثرہ نے حصول انصاف کے لئے ڈی پی او رحیم یارخان ، آر پی او بہاول پور و ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب ملتان سے انکوائری کرکے میری حق رسی فرمائی جائے #

رحیم یار خان: متاثرہ محمد اکرم تفصیلات بتاتے ہوئے دوسری طرف درخواستیں کے عکس, سراج احمد ASi کی فائل فوٹو موجود ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں