200

‏آپریشن کیوں؟ چین کا بزنس ماڈل سمجھیں۔ چین کسی بھی ملک میں براہ راست انویسٹمنٹ نہیں کرتا بلکہ وہ ان ممالک میں پراجیکٹس کو اپنے چینی بنکوں کے ذریعے فنانس کرتا ہے۔

‏آپریشن کیوں؟
چین کا بزنس ماڈل سمجھیں۔ چین کسی بھی ملک میں براہ راست انویسٹمنٹ نہیں کرتا بلکہ وہ ان ممالک میں پراجیکٹس کو اپنے چینی بنکوں کے ذریعے فنانس کرتا ہے۔
پاکستان میں بھی سی پیک کے نام پر یہی کچھ ہوا۔ چین کی حکومت نے اپنے بنکوں کے ذریعے پاکستانی حکومت کو سی پیک منصوبوں کیلئے رقم فراہم کی۔ ان منصوبوں کیلئے چینی کمپنیوں کا تقرر لازمی تھا، چنانچہ پاکستان نے جو رقم چینی بنکوں سے بطور قرضہ حاصل کی، وہی رقم چینی کمپنیوں کو ادائیگی کی شکل میں واپس چین کو لوٹا دی۔
اس کے ساتھ ساتھ بھاری سود بھی چین کو ادا کرنا پڑا۔
سی پیک کیا تھا؟ یہ گوادر پورٹ کو چین کے مغبری صوبے کے ساتھ بذریعہ روڈ اور ریلوے کنیکٹ کرنے کا منصوبہ تھا۔
گوادر پورٹ 2013 سے آپریشنل ہے لیکن پچھلے سال اس میں صرف 22 جہاز ہی لنگرانداز ہوئے۔ وجہ؟ بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی۔
یہ انفراسٹرکچر چین نے تعمیر کرنا تھا لیکن اب چین کی دلچسپی ختم ہوچکی ہے کیونکہ پچاس، ساٹھ ارب ڈالرز کا قرضہ دے کر اس پر 30 ارب ڈالرز کا سود اگلے پندرہ سال تک کمائے گا۔ وہ اپنا منافع نکال چکا ہے۔
انڈسٹریل زون کے وعدوں پر پاکستان نے آئی پی پیز کے ذریعے مہنگی ترین بجلی کے معاہدے بھی کرلئے جن کی ادائیگی کیپسٹی پر ہوتی ہے نا کہ کزمپشن پر۔
پاکستان کیلئے سود کی ادائیگی کا واحد ذریعہ مزید قرض لینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر انڈسٹریل زون نہیں بنتا تو بجلی کی ادائیگیاں ہمیں ڈیفالت کردیں گی۔
چند سال کی اضافی نوکری کے لالچ میں لیکن اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ خیبرپختونخواہ میں آپریشن لانچ کرکے چین کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔
آپ جو مرضی کرلیں، چین اب ہاتھ آنے والا نہیں۔ اس نے پاکستان سے جو کچھ نچوڑنا تھا، نچوڑ لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں