بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو!
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو!
35 سے فلاحی ادارے چلا رہا ہوں- شوکت خانم ہسپتال کے لیے ہر سال 10 ارب روپے اکھٹے ہوتے ہیں۔ کسی بھی فلاحی ادارے سے مجھے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے – نواز شریف اور زرداری 40 سال تک اقتدار میں رہے انہوں نے کوئی ٹرسٹ کیوں نہیں بنایا؟
روؤف حسن دو تین مرتبہ جیل میں ملنے آئے تھے لیکن ان کو ملنے نہیں دیا گیا۔ 8 ستمبر کے جلسے کے بعد واضح کرچکا ہوں کہ ہم کسی سے کوئی مزاکرات نہیں کرینگے۔اسٹیبلشمنٹ کے لوگ دائیاں دکھا کر بائیاں مارتے ہیں۔ علی امین گنڈا پور سمیت تمام لیڈر شپ کو ہدایات ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ باجوہ کے دور سے یہ ہمیں کہتے آئے ہیں کہ نیوٹرل کی بات نہ کرو ۔جتنا ہم پیچھے ہٹتے ہیں اتنا یہ ہمیں کرش کرتے ہیں۔ یہ پورے ادارے کی نہیں بادشاہ کی پالیسی ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ سے میری کوئی جان پہچان نہیں۔ تیس دن رہ گئے ہیں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج منصور علی شاہ کی بطور چیف جسٹس ٹقرری کا اعلان ہو جانا چاہیئے ۔ آئین بھی یہی کہتا ہے کہ سینیئر ترین جج چیف جسٹس ہوگا ۔ قاضی فائز عیسیٰ کی تقرری کا تین ماہ پہلے اعلان کیا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو دھمکیاں ملی ہیں اس پر قاضی فائز عیسیٰ نے کیا کیا؟ قاضی فائز عیسی تو نیوٹرل نظر آنے کی کوشش بھی نہیں کرتا ۔