11

اڈیالہ جیل میں “کیک کاٹنے” والوں کے لیے ناصر عباس صاحب نے ایک تلخ حقیقت کا آئینہ رکھ دیا ہے

اڈیالہ جیل میں “کیک کاٹنے” والوں کے لیے ناصر عباس صاحب نے ایک تلخ حقیقت کا آئینہ رکھ دیا ہے۔ قانون کا پہیہ جب گھومتا ہے، تو وہ دن نہیں بلکہ “جرائم کی فہرست” دیکھتا ہے۔
توشہ خانہ اور سائفر کی سزائیں موجودہ سزاؤں کا اگر حساب لگایا جائے تو ہزار دن تو محض ایک مختصر وقفہ ہے۔ 4000 دن کا مطلب ہے کہ جوانی سے بڑھاپے تک کا سفر سلاخوں کے پیچھے ہی گزرے گا۔
9 مئی ریاست کا حتمی حساب: 9 مئی محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ریاست پر حملے کا وہ داغ ہے جسے مٹایا نہیں جا سکتا۔ اس کیس میں ہونے والی سزائیں “عمر قید” کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ جب شہداء کی یادگاروں کی توہین کا حساب ہوگا، تو کسی “سیاسی ڈیل” کی گنجائش نہیں رہے گی۔
مکافاتِ عمل جس شخص نے دوسروں کو “چور اور ڈاکو” کہہ کر جیلوں میں ڈالنے کی مہم چلائی، آج وہ خود اسی نظام کے شکنجے میں اس طرح جکڑا گیا ہے کہ واپسی کے تمام راستے بند نظر أ رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں