ایک غیرملکی کنسٹرکشن کمپنی کو پاکستان کے ایک پہاڑی علاقے میں سڑک بنانے کا ٹھیکہ ملا. انھوں نے سروے کرکے نقشے بنانے شروع کئے. مقامی ٹھیکیدار کو یہ سب سمجھ نہ آیا تو اس نے کہا، یہ آپ کیا کررہے ہیں؟
ایک غیرملکی کنسٹرکشن کمپنی کو پاکستان کے ایک پہاڑی علاقے میں سڑک بنانے کا ٹھیکہ ملا.
انھوں نے سروے کرکے نقشے بنانے شروع کئے.
مقامی ٹھیکیدار کو یہ سب سمجھ نہ آیا تو اس نے کہا، یہ آپ کیا کررہے ہیں؟
انجنئیروں نے پوچھا، آپ لوگ پہاڑی علاقے میں سڑک کا راستہ کیسے طے کرتے ہیں؟
اس پر ٹھیکیدار نے کہا، ہم کھوتے پہ چونے کی بوری سوراخ کر کے لاد دیتے ھیں اور کھوتے کو پہاڑ پہ چھوڑ دیتے ہیں. کھوتا جس راستے سے اوپر نیچے جاتا ھے وہاں چونے کے نشان سے ہمیں پتہ چل جاتا ھے کہ سڑک یہاں سے گزرنی چاہئیے.
وہ انجنئیر بڑا پریشان ہوا اور پوچھا کہ آپ کے ہاں سڑکیں انجینئر نہیں بناتے؟
تو اس نے ہنس کر کہا، ہاں جی، جہاں کھوتے نہ ملیں، وہاں انجینئر ہی بناتے ہیں.سید ممتاز شاہ کی کھوتوں کی مدح میں توشہ خاص