90

میزائل کی سائنس

میزائل کی سائنس
میزائل دراصل ایک خودکار پرواز کرنے والا پروجیکٹائل ہوتا ہے جو راکٹ انجن، رہنمائی نظام (guidance)، کنٹرول سسٹم اور وارہیڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔

راکٹ انجن میزائل کو ہزاروں کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار دیتا ہے، جبکہ رہنمائی نظام — جیسے GPS، انرشیل نیویگیشن یا ریڈار — اسے درست سمت میں سفر کرواتا ہے۔ کنٹرول سسٹم دورانِ پرواز اس کی بلندی، زاویہ اور رفتار کو قابو میں رکھتا ہے، اور وارہیڈ ہدف پر پہنچ کر تباہ کن دھماکہ کرتا ہے، جو بعض صورتوں میں نیوکلیئر بھی ہو سکتا ہے۔

میزائل کی اقسام

میزائل مختلف رینج، رفتار اور استعمال کے لحاظ سے کئی اقسام کے ہوتے ہیں:

1۔ بیلیسٹک میزائل
قوس نما راستے (ٹریجیکٹری) پر فضا میں بلند ہو کر دور مار کرتا ہے۔اور نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شاہین (پاکستان) اور اگنی (انڈیا) اس کی مثالیں ہیں۔

2۔ کروز میزائل
زمین پرمخصوص ہدف کو نشانہ بناتا ہے اور دشمن کے ریڈار سے بچنے کے لیے کم اونچائی پر پرواز کرتا ہے۔ بابر(پاکستان) اور براہموس (بھارت) کروز میزائلوں کی مثالیں ہیں۔ بھارت نے 7 مئی 2025 کے حملوں میں اپنے رفال لڑاکا طیاروں کے ذریعے SCALP کروز میزائل استعمال کیے، جنہیں خاص طور پر زیرِ زمین اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

3۔ ٹیکٹیکل میزائل
نسبتاً قریبی فاصلے پر حملہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے میدانِ جنگ میں دشمن کی فوج یا اہم ٹھکانے۔ ان میں نیوکلیئر وارہیڈ بھی نصب ہو سکتا ہے، جیسا کہ پاکستان کا نصر میزائل۔ یہ دشمن کے ٹینکوں یا بریگیڈ پر فوری اور محدود پیمانے پر جوابی وار کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

4۔ فضا سے زمین پر داغے جانے والے میزائل (Air-to-Surface)
لڑاکا طیارے سے لانچ کیے جاتے ہیں۔ ان کی مدد سے دشمن کے زمینی اہداف کو محفوظ فاصلے سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا رعد-II اور بھارت کا نربھے اسی زمرے میں آتے ہیں۔

5۔ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (Surface-to-Air Missiles – SAMs)
دشمن کے طیاروں، ڈرونز یا کروز میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ میزائل انتہائی تیز رفتاری سے فضا میں بلند ہو کر ہدف کو تباہ کرتے ہیں۔ پاکستان کا LY-80 اور بھارت کا آستر میزائل ایسی مثالیں ہیں۔

6۔ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل (Anti-Ship Missiles)
سمندر میں دشمن کے جہازوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ میزائل کروز کی طرز پر کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ہدف پر حملہ کرتے ہیں۔ پاکستان کا زرب اور بھارت کا دھنش ایسے میزائل ہیں۔

7۔ ڈرون طرز کے میزائل
یہ جدید طرز کے ہتھیار ہیں، جو عام میزائلوں اور ڈرونز کے امتزاج پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہیں خودکش ڈرون بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مخصوص علاقے میں پرواز کرتے ہوئے ہدف تلاش کرتے ہیں اور پھر اُس پر گر کر خود کو دھماکے سے تباہ کر دیتے ہیں۔ بھارت نے اسرائیل کے تعاون سے تیار کردہ SkyStriker جیسے Loitering Munitions حالیہ آپریشنز میں استعمال کیے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں