*رزق حرام کی کمائیاں*
جمعرات 25جولائی 2024
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*چوری سے کمایا ہوا مال
*رشوت سے کمایا ہوا مال
*زمین، مکان، دوکان اور دیگر جائیداد پر ناحق قبضہ کی ہوئی املاک
*ناحق اکٹھا کیا ہوا مال
*وراثت کے حقداروں کا حق غصب کیا ہوا مال
*وراثت میں بیٹیوں کا حصہ نہ دینا
*ڈاکہ زنی اور راہزنی سے لوٹا ہوا مال
*بھتہ خوری, غنڈہ گردی سے وصول کیا ہوا مال
*جھوٹی گواہی دینا یا حق کو دبانا
*حقدار کا حق مار کر غصب کیا ہوا مال
*زبردستی مارا ہوا مال
*کسب حرام سے کمایا ہوا مال مثلا”
جوا، قمار بازی، جسم فروشی، جھوٹی گواہی، شرط سے جیتا ہوا مال، حرام کاروبار، کلام اللہ اور حق کی فروخت
غیر حقدار کا بھیک، صدقہ، زکواۃ مانگ کر اکٹھا کیا ہوا مال
*لقمہ حرام کھانے کے نقصانات*
لقمہ حرام کھانے والے کی دعاء قبول نہیں ہوتی
حرام کمانے، کھانے اور حرام لباس والے کی عبادات اور دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
*دلیل*
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ
کوئی شخص طویل سفر کے بعد اس حالت میں اپنے ہاتھ بارگاہ خداوندی میں پھیلاتا ہے کہ اس کا جسم اور اس کا لباس غبار آلودہ ہے، اور پکارتا ہے اے میرے رب! میری مدد فرما۔ کیسے اس کی دعاء قبول ہو جبکہ اس کا کھانا، پینا اور لباس حرام میں سے ہے؟
مسلم، الصحیح، رقم حدیث: 1015
درج بالا حدیثِ مبارکہ سے صاف واضح ہے کہ حرام کے مرتکب شخص کی عبادات و مجاہدات اور صدقات و خیرات کے ساتھ ساتھ دعاء تک قبول نہیں ہوتی۔
حرام کھانے والا اگر کعبہ مشرفہ کا دروازہ پکڑ کر بھی اللہ تعالی سے گڑگڑا کر دعا مانگے تو بھی اسکی دعاقبول نہ کی جاۓ گی۔
حرام سے کماۓ ہوۓ مال سے صدقہ، زکواۃ، خیرات عمل صالح حج و عمرہ تک قبول نہ ہوگا
ایسے حرام خور اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔
لوگو! حرام کمانے سے بچو ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی اولاد کو ساری عمر حرام کھلاتے رہیں اور آخرت میں اس حرام کمائی کی سزا آپ اکیلے بھگتیں اور دنیا میں آپکی اولاد کی رگوں میں سرایت کرتے ہوۓ خون کی بدولت جو گناہ وہ کریں ان گناہوں میں سے بھی آپ کو حصہ ملتا رہے۔
اے عقلمندو! اللہ تعالی کے حضورتوبہ کرو اور اب بھی وقت ہے کہ فوری حقدار کو اس کا حق لوٹا دیں اور اس سے کی ہوئی اس زیادتی کی معافی مانگیں۔
ایسا نہ ہو کہ بغیر معافی کے موت آ جائے اور آپ مفلس ہو کر اللہ تعالی حضور جائیں۔
*اصل مفلس کون*
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :
کیا تم جانتے ہو کہ *مفلس کون ہے*؟ صحابہ نے کہا؛ ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو ، نہ کوئی سازوسامان ۔ آپ نے فرمایا:
*میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو* قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ(دنیا میں) اس کو گالی دی ہو گی ، اس پر بہتان لگایا ہو گا ، اس کا مال کھایا ہو گا ، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا ، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا ، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
صحیح مسلم، حدیث نمبر: 6579
Please visit us at www.nazirmalik.com
Cell:00923008604333