*انتیسویں اور تیسویں پارے کا خلاصہ* اتوار 29 رمضان المبارک 1446 ھ انجینیئر نذیر ملک سرگودھا *انتیسویں پارے کا خلاصہ*
*انتیسویں اور تیسویں پارے کا خلاصہ*
اتوار 29 رمضان المبارک 1446 ھ
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*انتیسویں پارے کا خلاصہ*
اَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّیطٰنِ الَّرجِیمِ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*سورہ مُلک*
انتیسویں پارے کا آغاز سورہ ملک سے ہوتا ہے۔ سورہ ملک میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے زندگی اور موت کو اس لیے بنایا تا کہ جان لیں کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قوتِ تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس نے سات آسمان بنائے اور اس نے اس انداز میں ان کو بنایا کہ اس کی تخلیق میں کسی بھی قسم کی کوئی کمزوری نظر نہیں آتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آسمانِ دنیا کو ستاروں کے چراغوں سے مزین کیا اور ان کے ذریعے وہ شیطانوں کو مارنے کے بھی کام آتے ہیں۔
سورہ ملک کے بعد سورۃ القلم ہے
*سورۃ القلم*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورۃ القلم میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا اخلاق عظیم ہے۔ رسول کریم ﷺ نے خود بھی اعلان فرمایا کہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ کسی نے حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہﷺ کا اخلاق کیسا تھا تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ آپﷺ کا اخلاق قرآن پاک تھا ‘یعنی جو کچھ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا۔ آپ ﷺ ساری زندگی اسی پر عمل پیرا رہے۔
اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک سخی اور نیک زمیندار کا بھی ذکر کیا کہ وہ اپنے باغات کی آمدنی میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو احسن طریقے سے ادا کیا کرتا تھا جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹوں نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ وہ فصلوں کی کٹائی میں سے کسی بھی غریب کو کچھ ادا نہ کریں گے۔ جب فصلوں کی کٹائی کا وقت آیا تو وہ صبح سویرے نکلے تاکہ راستے میں ان کو کوئی مسکین نہ مل جائے۔ جب وہ باغ میں پہنچے تو کیا دیکھا کہ وہاں پر کھیت یا باغ نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی ان کو شک ہوا کہ شاید وہ راستہ بھول گئے ہیں لیکن اچھی طرح غور کرنے کے بعد وہ سمجھ گئے کہ وہ راستہ نہیں بھولے بلکہ حقیقتاً ان کا باغ اجڑ چکا تھا۔ یہ واقعہ اس امر کی دلیل ہے کہ جب مال کو راہِ خدا میں خرچ نہ کیا جائے تو اس مال کے ضائع ہونے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ کافر رسول کریم ﷺ پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ جب وہ قرآن پاک کو سنتے ہیں تو (نعوذ باللہ) آپ ﷺ کو مجنون کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ آپ ﷺ کو اپنی نگاہوں سے گرانا چاہتے ہیں اس لیے آپ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہیں؛ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن مجید تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔
سورۃ القلم کے بعد سورۃ الحاقہ ہے
*سورۃ الحاقہ*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحاقہ سے مراد حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں قیامت کو حقیقت کے نام سے پکارا ہے اور اس حقیقی کھڑکھڑاہٹ کو جھٹلانے والوں کے انجام سے آگاہ کیا ہے۔ اس سورہ میں قومِ ثمود اور عاد کے انجام سے آگاہ کیا گیا جنہوں نے قیامت کو جھٹلایا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قوم ثمود کو ایک چیخ کے ذریعے اور قوم عاد کو تیز ہوا کے ذریعے ہلاک کر دیا تھا۔ اس سورہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں کافروں کے اقوال کو نقل کر کے ان کی تردید کی ہے۔ کافر رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو کچھ بھی آپ ﷺ پر اترا ہے۔ پروردگار عالم نے اتارا ہے اور اس میں جھوٹ والی کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات پر جھوٹ باندھنے والے کو کبھی فلاح نہیں دیتے جبکہ اللہ کے حبیب ﷺ کے تذکروں کو اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک جاری و ساری فرما دیا ہے۔
سورۃ الحاقہ کے بعد سورۃ المعارج ہے
*سورۃ المعارج*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا ذکر کیا ہے کہ اس کی طوالت پچاس ہزار برس کے برابر ہو گی وہ دن ایسا ہو گا کہ ہر مجرم کی خواہش ہو گی کہ اپنا آپ چھڑوانے کے لیے اپنے بیٹے کو پیش کر دے یا اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو پیش کر دے یا زمین میں جو کچھ ہے اس کو بطور فدیہ دے دے۔ اس دن جو لوگ عذاب سے بچیں گے ان کے اوصاف بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنی پاکدامنی کا تحفظ کرنے والے ہوں گے۔ یہ لوگ امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہوں گے یہ لوگ حق کی گواہی پر قائم رہنے والے ہوں گے اور نماز کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔ یہی لوگ جنتوں کے حقدار ٹھہریں گے۔
سورہ معارج کے بعد سورہ نوح ہے
*سورہ نوح*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ نوح میں اللہ تعالیٰ نے جناب نوح علیہ السلام کی دین کے لیے محنت کا ذکر کیا کہ جناب نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کے لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے انہوں نے صبح و شام پوری تندہی سے اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کی اور اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات سمجھائی کہ وہ پروردگار سے استغفار کیا کریں اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ بارشوں کو ان کے لیے سود مند بنا کر نازل فرمائے گا اور مال اور بیٹوں میں بھی اضافہ کرے گا اور ان کے لیے نہروں کو چلا دے گا اور باغات کو آباد کر دے گا۔
سورہ نوح کے بعد سورہ جن ہے۔
*سورہ جن*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ جن میں اللہ تعالیٰ نے جنات کی ایک جماعت کے قبول اسلام کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کی تلاوت کو سنا تو کہنے لگے کہ قرآن کیا خوبصورت کلام ہے ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے پس ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ شرک نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پروردگار کا مقام بہت بلند ہے نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی بیٹا۔ انہوں نے قرآن مجید کے نزول کے بعد اپنی قوم کے لوگوں کو بھی توحید کی دعوت دی؛ چنانچہ انسانوں کی طرح جنات کی بھی ایک جماعت اہل توحید میں شامل ہو گئی۔
سورہ جن کے بعد سورہ مزمل ہے
*سورہ مزمل*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ مزمل میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو کہا کہ وہ پوری رات عبادت نہ کیا کریں بلکہ نصف رات اس سے کچھ زیادہ یا کم عبادت کیا کریں۔ اس لیے کہ انہوں نے دن کو بھی بہت سے کام انجام دینا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا نام وقفے وقفے سے لیتے رہا کریں۔ رسول اللہﷺ اللہ کی محبت کے سبب عبادت میں بہت زیادہ محو ہو گئے تو اللہ نے پیار سے اپنے حبیبﷺ کو بتلایا کہ آپ پر اپنی جان اہل و عیال اور سماج کا بھی حق ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قرآن جس حد تک ممکن ہو ضرور پڑھنا چاہیے۔
سورہ مزمل کے بعد سورہ مدثر ہے۔
*سورہ مدثر*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ مدثر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے انجام بد کا ذکر کیا جو قرآن مجید کو غرور کی وجہ سے جھٹلاتے ہیں ان کو جہنم کا مزا چکھنا پڑے گا۔ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے جہنم کے پہریدار فرشتوں کی تعداد انیس بتلائی گئی ہے اور جہنم میں لے کر جانے والے بڑے بڑے گناہوں میں نمازمیں کوتاہی اور مساکین کو کھانا نہ کھلانے کا بھی ذکر کیا ہے۔
اس کے بعد سورۃ القیامہ ہے
*سورۃ القیامہ*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ قیامت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا کہ یقینا قیامت آئے گی اور کافر جو اللہ کے بارے میں یہ گمان کرتا ہے کہ وہ ہڈیوں کو دوبارہ کیسے بنائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے انگلیوں کے پوروں کو بھی دوبارہ ٹھیک ٹھیک پیدا کرنا مشکل نہیں ہے۔
اس کے بعد سورہ *دھر* ہے
*سورہ دھر*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورہ دھر میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسان پر ایک دور ایسا تھا جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے پانی کے قطرے سے اسے دیکھنے اورسننے والا بنا دیا۔ اس کو دو راہیں بھی بتلا دیں چاہے تو شکر کرے یا انکار کر دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بیشک ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں طوق اور لپکتی ہوئی آگ کو تیارکیا ہے جبکہ نیک لوگ جنت میں جائیں گے جہاں ان کو اَن گنت نعمتیں حاصل ہوں گی۔
اس کے بعد سورہ *مرسلات* ہے
*سورہ مرسلات*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مرتبہ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے تباہی کا دن قرار دیا ہے اور کامیابی و کامرانی کو اہل تقویٰ کا مقدر قرار دیا ہے۔
*الدعاء*
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن مجید میں مذکور مضامین اورحقائق سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
انتیسویں سپارے کا خلاصہ
*تیسویں پارے کا خلاصہ*
اتوار 29 رمضان المبارک 1446ھ
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*تیسویں پارے کا خلاصہ*
اَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّیطٰنِ الَّرجِیمِ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تیسویں پارے میں چونکہ سورتوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے تمام سورتوں پر گفتگو نہیں ہو سکے گی بلکہ پارے کے بعض اہم مضامین کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔
*سورہ نباء*
تیسویں پارے کا آغاز سورہ نبا سے ہوتا ہے۔ سورہ نبا میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا ہے کہ قیامت کی آمد ایک بہت بڑی خبر ہو گی کیونکہ اس کی آمد سے قبل بہت سے لوگوں کو اس کے واقع ہونے کے بارے میں شبہات اور اختلافات تھے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کی سزا کا بھی ذکر کیا کہ وہ کس طرح صد ہا ہزار سال جہنم کی قید میں پڑے رہیں گے۔
*سورہ نازعات*
اس کے بعد سورہ *نازعات* ہے۔
سورہ نازعات میں پروردگارِ عالم ارشاد فرماتے ہیں:
جو اپنے پروردگار کے مقام سے ڈر گیا اور اس نے اپنے آپ کو خواہش سے بچا لیا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔ بنیادی طور پر انسان کی ہلاکت کا بڑا سبب اس کی خواہشات ہی ہوتی ہیں اگر وہ اپنی خواہشات پر قابو پا لے تو وہ یقینا کامیاب اور کامران ہو سکتا ہے۔
*سورہ عبس*
سورہ نازعات کے بعد سورہ *عبس* ہے۔ سور ہ عبس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو بھائی اپنے بھائی سے دوڑے گا اور بیٹا اپنے والدین سے دوڑے گا اور بیوی اپنے شوہر سے بھاگے گی اور والدین اپنے بیٹے سے بھاگیں گے۔ ہر کسی کی خواہش ہو گی کہ وہ آگ سے کسی بھی طور پر بچ جائے چاہے اس کے بدلے کسی دوسرے عزیز کو پکڑ لیا جائے۔
*سورہ تکویر*
اس کے بعد سورہ *تکویر* ہے۔ سورہ تکویر میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن مجید کل کائنات کے ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو صراطِ مستقیم پر چلنا چاہتے ہیں۔ اور کوئی بھی انسان اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر صراط مستقیم پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔
*سورہ انفطار*
سورہ تکویر کے بعد سورہ *انفطار* ہے۔ سورۃ انفطار میں اللہ تعالیٰ نے جہاں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کیا ہے وہیں دنیا میں انسانوں کے حساب و کتاب کو نوٹ کرنے والے فرشتوں کا بھی ذکر کیا جن کو کراماً کاتبین کہا جاتا ہے۔ کراماً کاتبین انسانوں کے عمل کو نوٹ کرتے ہیں اور یہی اعمال نامہ قیامت کے دن انسانوں کو پیش کیا جائے گا۔
*سورہ مطففین*
سورہ انفطار کے بعد سورہ *مطففین* ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اپنے حق میں تو ترازو کو پوری طرح استعمال کرتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے ترازو میں کمی کرتے ہیں۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
*سورہ انشقاق*
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ انسان محنت و مشقت کا خوگر ہے اور اس کو چاہیے کہ اپنے پروردگار کے لیے محنت کرے جس سے اس نے ملاقات کرنی ہے۔ اگر انسان اپنے پروردگار کے لیے محنت کرے گا تو اس کو آسان حساب کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ اپنے اہل خانہ کی طرف مسرت کے ساتھ پلٹے گا۔
*سورہ بروج*
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اخدود کی بستی کا ذکر کیا کہ جنہوں نے ایک صاحبِ ایمان بچے کی دعوتِ تبلیغ کی وجہ سے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اسلام قبول کرنے کی پاداش میں ان کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور بے دین بادشاہ نے خندقیں کھود کر ان کو خندقوں میں جلا دیا تھا۔ بستی کے اہلِ ایمان افراد نے ہر طرح کی اذیت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا لیکن دعوتِ توحید سے دستبردار ہونا گوارا نہیں کیا۔
*سورہ طارق*
اس کے بعد سورہ طارق ہے۔ سورہ طارق میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا کہ کس طرح انسان کو پانی کے معمولی قطرے سے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا اور جو اللہ تعالیٰ انسان کو پانی کے معمولی قطرے سے پیدا کر سکتا ہے وہ انسان کو اس کی موت کے بعد بھی آسانی سے زندہ کر سکتا ہے ۔ اس لیے انسان کو اپنی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
*سورۃ الاعلیٰ*
سورۃ الا علیٰ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا کہ لوگوں کی نگاہ تو دنیا کی زندگی پر ہوتی ہے لیکن حقیقی اور باقی رہنے والی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہی بیان نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام حقائق ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی بیان فرما دیے ہیں۔
*سورہ فجر*
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ مومن کو مخاطب ہو کر کہیں گے: اے مطمئن جان! اپنے پروردگار کی طرف راضی ہو کر پلٹ جا اور میرے بندوں اور میری جنت میں داخل ہو جا۔
*سورۃ البلد*
سورۃ البلد میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دو آنکھیں، زبان اور دوہونٹ عطا فرمائے اور اس کی رہنمائی دو راستوں کی طرف کی ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ جو صحیح راستے پر چلے گا جنت میں جائے گا اور جو غلط راستہ اختیار کرے گا تو وہ جہنمی ہو گا۔ اس کے بعد سورہ شمس ہے اور سورہ شمس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نفس کو تخلیق کیا اور اس میں نیکی اور برائی کی سمجھ کو الہام کر دیا تو جو اپنے نفس کو نیکی کے راستے پر چلائے گا وہ جنتی ہو گا اور جو اپنے نفس کو آلودہ کرے گا وہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔
*سورۃ اللیل*
سورہ لیل میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے صدقہ دیا اور نیکی کی تائید کی اس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان راستے کو ہموار کر دیں گے اور جس نے بخل کیا اور اچھی بات کی تکذیب کی اللہ تعالی اس کے لیے مشکل راستے یعنی جہنم کے راستے کو ہموار کر دیں گے۔
اس کے بعد سورہ ضحی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی تلقین کی ہے کہ پروردگار کی نعمتوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور ان کا اظہار بھی کرنا چاہیے۔ اس کے بعد سورہ الم نشرح ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسو ل اللہ ﷺ کے تذکروں کو بلند کر دیا ہے۔ اس کے بعد سورۃ التین ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے انسانوں کو بہترین تقویم میں پیدا کیا مگر جو لوگ ایمان اور اعمال صالح کے راستے سے ہٹ گئے ان کو اللہ تعالیٰ نے بدترین مخلوق میں تبدیل کردیا۔ سورۃ التین کے بعد سورہ علق ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں حبیب ﷺ کو اپنے پروردگار کے نا م سے پڑھنے کا حکم دیا کہ اس نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ سورہ علق کے بعد سورہ قدر ہے اور اس سورہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا اور قدر والی رات ہزار مہینوں سے زیادہ فضیلت کی حامل ہے اور اس رات میں جبریلؑ امین ہر امر کا فیصلہ لے کر فرشتوں کے ساتھ نازل ہو تے ہیں اور یہ رات طلوع فجر تک سلامتی والی رات ہے۔ اس کے بعد سورہ عصر میں اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم اٹھا کر انسان کو ناکام کہا ہے کہ ہر انسان نا کام ہے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کو اختیار کیا اور جو حق بات اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔
سورہ عصر کے بعد ایک اہم سورہ سورۃ الکوثر ہے
*سورۃ الکوثر*
سورۃ الکوثر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو حوضِ کوثر کی بشارت دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتلایا ہے کہ آپ کا دشمن بے نام و نشان رہے گا۔ ان کے بعد آخری تین قل نہایت اہم ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی پناہ طلب کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
*الدعاء*
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ مجید روزانہ پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے،
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
انتیسویں اور تیسویں سپارے کا خلاصہ