August 29, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

کرسی پہ بیٹھا ہوا ملازم

20250323_195921
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

کرسی پہ بیٹھا ہوا ملازم
ہر جیتا جاگتا انسان بھلے جس حال میں بھی ہو، بھلے تخت پہ براجمان ہو یا گلیوں میں رسوا ہوتا ہوا بھکاری، ہر
.نفس کسی پنجرے میں قید پرندے کی طرح بے بس ہے، مجبور ہے، کسی نہ کسی شش و پنج میں گرفتار ہے
لیکن یہ آزمائشیں ہر ذی روح کے ساتھ ساری زندگی آنکھ مچولی کھیلتی رہتی ہیں ،اور ہم اپنے قیدی جسم و روح کے ساتھ اپنی اپنی زندگیوں کی نیا پار لگاتے لگاتے نڈھال ہو جاتے ہیں اورآخر کار روح کا پنچھی جسم کے پنجرے کو چھوڑ کر آزاد ہو جاتا ہے اور پھر گناہ و ثواب اور جزا سزا کے پل صراط کی آزمائش شروع ہو جاتی ہے.
یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں
آزمائش کا مہکا ہوا تھا جہاں
رازق اللہ پاک ہے مگر رزق کمانے کے لیے ہر کس و ناکس کو کچھ نہ کچھ ہاتھ پاوں تو ہلانے ہی پڑتے ہیں، وہ جو گھروں میں بیٹھ کر عیش کرتے ہیں ان کے واسطے بھی کسی نہ کسی طور ہاتھ پاوں ہلانے جلانے والوں سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں، کوی کسی کا بیٹا ہوتا ہے تو کوی باپ، کوی شوہر ہوتا ہے تو کوی بھای.
اور جتنا کسی سمندر میں میں شور ہوتا ہے اتنے ہی ستم اس سمندر کو برداشت کرنے کرنے پڑتے ہیں،
قصہ مختصر ہے کہ بھلے کوئی ریڑھی والا ہے یا بادشاہ ہر کوئی زیست کے کڑوے گھونٹ بھرنے کے لیے سانسوں کی ڈوری سے بندھا ہوا ہے لیکن آج جس بھیانک سچ کو لکھنے کے لیے میں بے تاب ہوں وہ ایک پچیس سالہ ہنس مکھ، کھلنڈرے، چشماٹو، کھلی کھلی رنگت، گھنگھریالے بالوں لمبے نمایاں قد، ہر امتحان میں ٹاپ کرنے والے اسد ہمایوں کی مختصر سی زندگانی میں زیست کے انتہای بھیانک موڑ پہ پہنچ کے کسی سر پھرے، کسی وحشی، کسی جانگلی کے پاگل پن کا شکار ہو کے دنیا چھوڑ کر چلے جانے اور پیچھے اپنی دمہ زدہ ماں کی بقیا سانسوں کو مزید مشکل بنا دینے کی کہانی ہے کون تھا اسد ہمایوں ارے ایک ڈ اکٹر تھا جو عید پہ اپنی ڈیوٹی نبھا رہا تھا جب. سارے مسلمان عید کی خوشیاں منا رہے تھے وہ مریضوں کی تیماداری میں مصروف تھا، جب اس کی عمر کے بقا یا لوگ رنگ رلیاں منا رہے تھے وہ دکھی انسانیت کے زخموں پہ پھاے رکھ رہا تھا اچانک ایک ایکسیڈنٹ کیس میں ایک نوجوان انتہائی زخمی حالت میں پہنچتا ہے اسے resusitate کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے مریض زندگی کی بازی ہار جاتا ہے، اسد ہمایوں دکھی دل کے ساتھ لواحقین کو جوان کی. موت کا بتاتا ہے، لواحقین میں سے ایک جذباتی نوجوان گولی مار کر اسد ہمایوں کی جان سے کھیل جاتا ہے لوگوں کا پاگل پن ٹھہرا اور ایک کرسی پہ بیٹھا ہوا عیدالفطر کے دن ایمرجنسی میں ڈیوٹی کرتا ہوا اپنی زندگی کی بازی ہار گیا ارے وہ کرسی پہ بیٹھا ہوا مزدور واقعی میں ایک محنتی، ایماندار، پیدایشی مزدور تھا ارے لوگ اسد ہمایوں ایک ڈاکٹر تھا.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
naureendoctorpunnam@gmail.com

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0