November 6, 2026

‏رشیا یوکرین وار کے بعد روس پر عائد ہونے والی پابندیوں کے نتیجے میں یورپی یونین اور برطانیہ نے مجموعی طور پر روس کے 235 ارب ڈالرز منجمد کئے تھے۔

20250228_180229

‏رشیا یوکرین وار کے بعد روس پر عائد ہونے والی پابندیوں کے نتیجے میں یورپی یونین اور برطانیہ نے مجموعی طور پر روس کے 235 ارب ڈالرز منجمد کئے تھے۔
پچھلے چار سال کے دوران یورپی یونین اور برطانیہ نے مجموعی طور پر 45 ارب ڈالرز یوکرین کو دیئے ہیں جن میں 35 ارب ڈالرز قرضے کی مد میں دیئے گئے۔
اس کے علاوہ امریکہ سے ساڑھے تین سو ارب ڈالرز نیٹو سپورٹ کی مد میں لئے گئے۔
یورپ اور برطانیہ کیلئے یہ جنگ اپنی ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کا ذریعہ ہے۔ جتنی زیادہ یہ جنگ لمبی ہوگی، اتنی ہی دیر تک روس کے ڈھائی سو ارب ڈالرز یورپ کے قبضے میں رہیں گے۔
اس کی آسان مثال یہ ہے کہ ڈھائی سو ارب ڈالرز پر 7 فیصد شرح سود کے حساب سے یورپی یونین اور برطانیہ نے مجموعی طور پر 77 ارب ڈالرز بطور منافع کما لیا ہوگا، جبکہ صرف 45 ارب ڈالرز یوکرین کو دیئے جس کا زیادہ تر حصہ قرضہ ہے جس پر مزید سود کی شکل میں منافع یورپ اور برطانیہ کو جائے گا۔
یورپ کیلئے یہ جنگ اپنی ڈوبتی معیشتوں کو بچانے کا ذریعہ ہے۔ اگر ٹرمپ اس جنگ سے امریکہ کو علیحدہ کرلیتا ہے تو روس ان تمام یورپی ممالک کیلئے ڈراؤنا خواب بن جائے گا، پھر آخر میں وہی ہوگا جو دوسری جنگ عظیم میں ہوا، یعنی یورپ ایک مرتبہ پھر امریکی دربار میں حاضر ہوگا، مدد کی درخواست کرے گا اور پھر ٹرمپ کی سخت شرائط پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنے بال دھوپ میں سرخ نہیں کئے!!!
بابا کوڈا