عالمی یوم آبادی2024
تحریر ۔عطاء محمد
ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفئیر آفیسر بہاولنگر
پاکستان سمیت دنیا بھر میں 11 جولائی کو 34 واں عالمی یوم آبادی منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس کو دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ مسائل خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت، صنفی مساوات کے اصول کا فروغ، غریب کے مسئلے پر تیزی سے بڑھتی آبادی کے تناظر میں غوروفکر، زچہ بچہ کی صحت کا خیال اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا سے آگاہ کرنا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق اس وقت عالمی آبادی 8 ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے چین اور بھارت دنیا کے دو بڑے ممالک میں شامل ہیں۔ ان دونوں ممالک کی آبادی ایک ایک ارب سے زائد ہے اور یہ دنیا کی کل آبادی کا 37 فیصد حصہ ہے۔ اس وقت آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ پاکستان دنیا کے ان 8 ممالک میں شامل ہے جو 2050ءتک دنیا میں بڑھنے والی کل آبادی میں 50 فیصد حصہ ڈالیں گے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف پنجاب کے محدود وسائل کے مقابلے میں آبادی کے بڑھنے کی شرح 13.2 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب کے مطابق پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس وقت صرف 30 سے 35 فیصد لوگ آبادی کے کنٹرول کے طریقہ کار سے واقفیت رکھتے ہیں یا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم 2025ءتک اس شرح کو 50 فیصد تک بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس وقت پاکستان میں فرٹیلٹی ریٹ یعنی کل پیدائشی شرح فی خاتون 3.5 ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق محکمہ بہبودآبادی پنجاب بہاولنگر سمیت صوبہ بھر میں عالمی یوم آبادی 11 جولائی کو منایا گیا۔جبکہ اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئےگزشتہ ہفتہ کے دوران خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔محکمہ بہبود آبادی پنجاب کے مطابق گر چاہیے سب کیلئے مساوی مستقبل اور ترقی پائیدار،تو کرنا ہوگا غیر جانبدار اور جامع اعدادو شمار پہ انحصارکے عنوان سے عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔جبکہ مذکورہ دن منانے کامقصد عوا م الناس میں خواتین اور بچوں کی صحت اور حقوق کے تحفظ، بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل اجاگرکرنا،ماں بچے کی صحت کے حوالے سے احتیاطی تدابیر،ماں بچے کی صحت کیلئے بچوں کی پیدائش میں کم ازکم 3سال کے وقفہ کے فوائد،جدید مانع حمل طریقوں اور ادویات کے استعمال بارے آگاہی فراہم کرنا اور نوزائیدہ بچوں کیلئے ماں کے دودھ کی اہمیت بارے شعوراجاگر کرنا تھا۔ ہفتہ آبادی کا آغازسوموارکو محکمہ بہبود آبادی کے مراکز پر بڑھتی ہوئی آبادی کے مضمرات پر آگاہی سیشنز کے انعقاد سے کیا گیا جبکہ9 جولائی کو کیبل نیٹ ورک پر محکمہ کے آگاہی پیغامات چلائے گے اور بڑھتی ہوئی آبادی پر معلوماتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔10جولائی کو بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل پرتمام تحصیلوں میں سٹیک ہولڈرز کے ساتھ آگاہی سیشنز، ضلع کی تحصیلوں میں فیملی ہیلتھ کلینک پر تولیدی عمر کی شادی شدہ خواتین کے ساتھ آگاہی پروگرامزمنعقد کئے گئے جبکہ11 جولائی کو ضلعی دفتر بہبود آبادی کے زیر انتظام آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد ہوا۔اسی طرح 12 جولائی کو تمام تحصیلوں میں فری میڈیکل کیمپس اور جمعہ خطبہ میں خطیب حضرات ماں بچے کی صحت پر خصوصی بات کریں گے۔علاوہ ازیں 13 جولائی کوبڑھتی ہوئی آبادی کے ملکی معیشت پر اثرات کے عنوان پر مصوری مقابلہ کا انعقاد کیا جائے گا۔عوامی آگاہی مہم کے تحت تمام تحصیلوں میں محکمہ کے پیغامات پر مبنی پینافلیکس بھی نمایاں جگہوں پر آویزاں کئے جائیں گے۔
آبادی میں اضافے سے پیدا ہونیوالے مسائل میں خوراک کی فراہمی، علاج، رہائش، تعلیم اور دیگر بنیادی اشیاء جو بنی نوع انسان کیلئے ضروری ہیں، کا نہ ملنا، آبادی کا تناسب بگڑنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے 11 جولائی 2024ء کا دن عوام میں آبادی میں ہونیوالے اضافے کے نقصانات سے آگاہی دینا ہے۔محکمہ بہبود آبادی پنجاب اس حوالے سے کافی موثر اقدامات کر رہا ہے۔ عوام میں آبادی میں اضافے کے حوالے سے شعور کی آگاہی بنیادی فیکٹر ہے، عوام میں شعور ہوگا تو ہم ان مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہوں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی کا 50 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ دنیا میں ہر گھنٹے 9000 سے زائد بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس تناسب سے دنیا کی آبادی میں سالانہ 8 کروڑ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔جبکہ ماہرین کے اندازوں کے مطابق اگر دنیا کی آبادی اسی تناسب سے بڑھتی رہی تو آئندہ 50 برسوں کے دوران اس کرہ ارض پر مزید دو سے چار ارب لوگوں کا اضافہ ہو جائے گا۔ اس وقت محکمہ بہبود آبادی اپنے محدود وسائل میں بھی خوشحال معاشرے کے قیام کے لیے پرعزم ہے وہاں بحیثیت ایک ذمہ دار شہری ہمیں بھی اس عالمی یوم آبادی کے موقع پر اس عہد کی ضرورت ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا بھرپور ادا کریں گے جہاں پر زچہ بچہ کی شرح اموات میں کمی لائی جا سکے گی، لڑکیوں اور خواتین کے حالات میں بہتری کی بدولت ان کے حقوق کا بھرپور خیال رکھا جا پائے گا۔ تمام شہریوں کے لیے باوقار زندگی، قومی بہبود اور سلامتی ہم سب کا اولین مقصد ہونا چاہیے۔