سکھر(بیورو چیف ۔۔۔۔۔ سید نصیر حسین زیدی۔۔۔۔۔۔۔ دعا ان لاہین نیوز )وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کا شمار دنیا بہترین یونیورسٹیز میں ہوتا ہے.یونیورسٹی
سکھر(بیورو چیف ۔۔۔۔۔
سید نصیر حسین زیدی۔۔۔۔۔۔۔
دعا ان لاہین نیوز )وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کا شمار دنیا بہترین یونیورسٹیز میں ہوتا ہے.یونیورسٹی فاﺅنڈر وائس چانسلر مرحم نثار صدیقی کہ خدمات کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔سندھ حکومت تعلیم کے شعبہ انویسٹمنٹ کررہی ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی بی اے یونیورسٹی سکھر میںمنعقد 11 ویں کانووکیشن تقریب سے خطاب کے دوران کیا ، ان کا کہنا تھا کہ آئی بی سکھر 1994 میں دو کمروں سے شروع ہوئی۔وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہمستقبل کے معماروں اور روشن پاکستان کیلئے تعلیم پر خصوصی توجہ ہے۔پاکستان کا مستقبل تعلیم کے فروغ میں ہے۔بلاول بھٹو زرداری کے تعلیم کے فروغ کے وڑن کو سندھ حکومت لیکر چل رہی یے۔ہمیں فخر ہے آئی بی اے یونیورسٹی میں ملک بھر سےطلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں۔تعلیم کے فروغ کیلئے سندھ حکومت آئی بی اے یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔طلبہ و طالبات اپنے شہر صوبہ ملک اور خاندان کے بہتر مستقبل کیلئے محنت کریں۔طلباءو طالبات کا ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ مرحوم نثار احمد صدیقی اور سید خورشید احمد شاہ کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آئی بی ای یونیورسٹی اونچے مقام پر پہنچا ہے.قمبر شہداد کوٹ میں بھی آئی بی ای کا کیمپس کھولنے جا رہے ہیں،آئی بی ای سندہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے،آئی بی ای یونیورسٹی کے شاگردوں نے جو آج ڈگری حاصل کی ہے وہ دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں گے انہوں نے کہا کہ آج میرے لئے بہت خوشی کی بات ہے کہ میں سکھر آئی بی ای یونیورسٹی میں موجود ہوںمجھے بہت فخر ہو رہا ہے کہ میری والدہ بینظیر بھٹو نے آئی بی ای یونیورسٹی کا بنیاد سکھر میں رکھاہے میں چاہتا ہوں کہ جن بچوں نے آج ڈگریاں حاصل کی ہے وہ دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں.سکھر:ہمارا انفراسٹرکچر انٹر نیٹ ہے جو نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے میں بڑا کردار ادا کرتا ہے ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں موسمی تبدیلی کی باعث لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ،سندہ میں سب سے گرم علاقہ جیکب آباد کا ہے،دنیا میں موسمی تبدیلی کا بڑا خطرہ ہے اورہمیں اس خطرے سے مقابلہ کرنا ہے ،پہلے ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم مقابلہ کرنے کے قابل ہیں،دنیا میں ہم ایسے دس ممالک میں شامل ہیں جو پہلے ڈوب جائیں گے۔