پولینڈ کے شہر کراکوف میں ایک مسلح شخص نے سرعام اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
پولینڈ کے شہر کراکوف میں ایک مسلح شخص نے سرعام اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
کراکوف(انٹرنیشنل ڈیسک)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق پولینڈ کے دوسرے بڑے اور تاریخی شہر کراکوف میں ایک مسلح شخص نے سرِعام اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دلخراش واقعہ ہفتے کے روز دوپہر تقریباً تین بجے شہر کے تاریخی اور سیاحتی مرکز ‘مین مارکیٹ اسکوائر’ کے قریب پیش آیا، جہاں روزانہ ہزاروں مقامی شہری اور غیر ملکی سیاح موجود ہوتے ہیں۔ پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق ملزم ایک گاڑی میں سوار ہو کر اسکوائر میں داخل ہوا اور اس نے کار چلاتے ہوئے سڑک پر موجود معصوم اور بے گناہ شہریوں پر اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دیں۔فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور ایمرجنسی سروسز کے اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے۔ پولیس ترجمان کے مطابق حملہ آور فوجی وردی سے مشابہ لباس میں ملبوس تھا۔ گرفتاری کے دوران جب پولیس نے ملزم کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے پولیس اہلکاروں پر بھی جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو پولیس افسران بھی زخمی ہو گئے۔ فورسز کی جانب سے کی گئی جوابی کارروائی میں حملہ آور کو گولی لگی، جس کے بعد اسے زخمی حالت میں گرفتار کر کے فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔اس المناک سانحے پر پولینڈ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس واقعے کو ایک اندوہناک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارتِ داخلہ انہیں لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے آگاہ کر رہی ہے اور پولیس واقعے کے پسِ پردہ محرکات اور تمام تر تفصیلات کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے۔ اسی دوران پولینڈ کے صدر کارول ناووروتسکی نے بھی جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔امریکی سفیر برائے پولینڈ ٹام روز نے بھی کراکوف میں پیش آنے والے اس خونی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس وحشیانہ اور قاتلانہ حملے نے پولینڈ کے پرامن ماحول کو لرزا کر رکھ دیا ہے، اور اس مشکل اور تاریک گھڑی میں امریکہ پولینڈ کی عوام اور بالخصوص کراکوف کے شہریوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ حملے کے اصل اسباب کا تعین کیا جا سکے۔