ایڈووکیٹ ملک حاجی سجاد حسین سٹھار؛ قانون، علم و ادب اور سماجی خدمت کا ایک معتبر حوالہ خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
ایڈووکیٹ ملک حاجی سجاد حسین سٹھار؛ قانون، علم و ادب اور سماجی خدمت کا ایک معتبر حوالہ
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
معاشرے میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پہچان محض ان کے پیشے یا عہدے تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان کی شخصیت علم و ادب، سماجی خدمت، خاندانی روایات، خلوص اور عوامی مقبولیت کے حسین امتزاج سے عبارت ہوتی ہے۔ ایسی شخصیات اپنے کردار، گفتار اور عملی خدمات کے ذریعے معاشرے میں ایک منفرد مقام حاصل کرتی ہیں۔ ایڈووکیٹ ملک حاجی سجاد حسین سٹھار کا شمار بھی ضلع خوشاب کی انہی ممتاز اور قابلِ احترام شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے قانون کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور علم و ادب کے فروغ، سماجی بہبود اور عوامی خدمت کے میدان میں بھی اپنی گراں قدر خدمات انجام دیں۔
ایڈووکیٹ ملک حاجی سجاد حسین سٹھار ایک ایسے علمی و ادبی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں جس کی شناخت علاقائی ادب، بالخصوص پنجابی شاعری کے حوالے سے ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ آپ ضلع خوشاب کی نامور تعلیمی و ادبی شخصیت ملک حاجی احمد فگار سٹھار مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس خاندان کو علم و ادب کے میدان میں خصوصی مقام اور عزت و توقیر عطا فرمائی ہے۔ ان کے چھوٹے بھائی ملک حاجی اعجاز حسین سٹھار بھی عوامی اور ادبی حلقوں میں اپنی خوش اخلاقی، ملنساری اور ادبی وابستگی کے باعث خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔
ملک حاجی احمد فگار سٹھار مرحوم محض ایک شاعر ہی نہیں بلکہ پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے عملی طور پر سرگرم رہنے والی ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں علاقائی ادبی روایات کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی شاعری میں دھرتی سے محبت، معاشرتی اقدار، انسانی احساسات اور علاقائی ثقافت کی بھرپور عکاسی ملتی تھی۔ ان کی ادبی خدمات کا ایک اہم اور یادگار حوالہ تھل سرائیکی سنگت کا قیام اور اس کی فعالیت تھا، جس کے ذریعے علاقے کے پنجابی شعراء کو ایک مشترکہ ادبی پلیٹ فارم مہیا کیا گیا۔
یہ راقم الحروف (راجہ نورالہی عاطف ) کے لیے بھی باعثِ اعزاز اور خوشگوار یادوں کا حصہ ہے کہ مجھے اس ادبی تنظیم میں سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ اس وقت علاقے کے تمام پنجابی شعراء اس تنظیم کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوتے اور ادبی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے۔ ملک حاجی احمد فگار سٹھار مرحوم نے اس تنظیم کی سرپرستی کا فریضہ نہایت خلوص اور ذمہ داری سے ادا کیا، جبکہ معروف مقامی شاعر ملک ظفر اقبال سٹھار کی معاونت بھی اس ادبی سفر میں انتہائی قابلِ ستائش رہی۔ ان شخصیات کی مشترکہ کاوشوں سے علاقے میں تواتر کے ساتھ پنجابی مشاعروں، ادبی نشستوں اور علمی محافل کا انعقاد ہوتا رہا، جنہوں نے پنجابی ادب کے فروغ اور شعراء کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی علمی و ادبی مشن کو جاری رکھنا اس کے آغاز سے زیادہ مشکل کام ہوتا ہے، لیکن ایڈووکیٹ ملک حاجی سجاد حسین سٹھار اور ان کے چھوٹے بھائی ملک حاجی اعجاز حسین سٹھار نے اپنے والد محترم کی وفات کے بعد بھی ان کی ادبی روایات اور مشن کو زندہ رکھنے کے لیے طویل عرصے تک قابلِ قدر کردار ادا کیا۔ انہوں نے پنجابی زبان و ادب سے اپنی وابستگی برقرار رکھی اور اپنے والد کی ادبی میراث کو آگے بڑھانے میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ بلاشبہ یہ اپنے بزرگوں کی علمی و ادبی خدمات کو زندہ رکھنے اور نئی نسل کو اپنی زبان و ثقافت سے وابستہ رکھنے کی ایک قابلِ تحسین مثال ہے۔ ان دونوں بھائیوں کی ان خدمات کو جس قدر سراہا جائے کم ہے۔
ایڈووکیٹ ملک حاجی سجاد حسین سٹھار کی شخصیت کا ایک دوسرا نمایاں پہلو شعبہ قانون سے ان کی طویل وابستگی اور وکلاء برادری کے لیے ان کی خدمات ہیں۔ آپ نے بطور قانون دان مقامی بار کی فعالیت، وکلاء کے اجتماعی مفادات اور قانونی برادری کے باہمی اتحاد کے لیے اپنے ساتھی وکلاء کے ہمراہ بھرپور کردار ادا کیا۔ ایک کامیاب قانون دان کے لیے قانونی مہارت کے ساتھ ساتھ تحمل، بردباری، دیانت داری اور لوگوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایڈووکیٹ ملک حاجی سجاد حسین سٹھار کی شخصیت میں یہ تمام خوبیاں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی وکلاء برادری میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
ان کی سیاسی و تنظیمی خدمات کا تذکرہ بھی ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ اپنے دور میں انہوں نے جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی قائدین مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور مولانا عبدالستار خان نیازیؒ کی قیادت میں ڈاکٹر رفاقت سلطان وٹو کے ہمراہ ضلع خوشاب میں جماعتی تنظیم کو فعال اور مستحکم بنانے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے جمعیت علمائے پاکستان ضلع خوشاب کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ضلع بھر کے تنظیمی دورے کیے اور جماعت کے منشور، پیغام اور تنظیمی سرگرمیوں کو قریہ قریہ پہنچانے کے لیے عملی جدوجہد کی۔ یہ وہ دور تھا جب تنظیمی وابستگی، عوامی رابطے اور نظریاتی استقامت کو سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں بنیادی اہمیت حاصل تھی۔
ایڈووکیٹ ملک حاجی سجاد حسین سٹھار کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ان کی انسان دوستی، وسیع حلقۂ احباب اور اجتماعی فلاح و بہبود سے گہری وابستگی ہے۔ وہ انتہائی ہردلعزیز، پروقار، بردبار، ملنسار اور خوش گفتار طبیعت کے مالک ہیں۔ لوگوں سے محبت اور احترام کے ساتھ پیش آنا، دوست احباب کے ساتھ تعلقات کو خلوص سے نبھانا اور معاشرتی معاملات میں مثبت کردار ادا کرنا ان کی شخصیت کے ایسے اوصاف ہیں جنہوں نے انہیں عوامی، سماجی، تعلیمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں بھی مقبولیت عطا کی ہے۔ ان کی یہی خوبیاں انہیں محض ایک قانون دان نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت سماجی شخصیت کے طور پر متعارف کراتی ہیں۔
معاشرے کی اصل خوبصورتی ایسے ہی لوگوں سے قائم رہتی ہے جو اپنی ذات اور پیشے سے آگے بڑھ کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو اپنے بزرگوں کی روایات کا احترام کرتے ہیں، اپنے علاقے کی تہذیبی و ادبی شناخت کو محفوظ رکھتے ہیں اور اپنے تجربات، صلاحیتوں اور تعلقات کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایڈووکیٹ ملک حاجی سجاد حسین سٹھار نے قانون، ادب، تنظیمی سرگرمیوں اور سماجی تعلقات کے مختلف میدانوں میں اپنی عملی وابستگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی شخصیت کی حقیقی عظمت اس کے عہدے یا منصب سے نہیں بلکہ اس کے کردار، خدمات اور لوگوں کے دلوں میں موجود مقام سے متعین ہوتی ہے۔
ملک حاجی احمد فگار سٹھار مرحوم کی علمی و ادبی میراث کو آگے بڑھانا، پنجابی ادب کے فروغ کے لیے خاندانی روایات کو برقرار رکھنا، وکلاء برادری کے اجتماعی معاملات میں حصہ لینا اور معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم رہنا یقیناً ایسے قابلِ قدر پہلو ہیں جو ایڈووکیٹ ملک حاجی سجاد حسین سٹھار کی شخصیت کو منفرد بناتے ہیں۔
میری نظر میں ایڈووکیٹ ملک حاجی سجاد حسین سٹھار ضلع خوشاب کی ان باوقار شخصیات میں شامل ہیں جن کی خدمات کا اعتراف اور جن کی شخصیت کا مثبت تعارف نئی نسل کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و تندرستی، عزت و وقار اور مزید کامیابیوں سے نوازے، ان کے چھوٹے بھائی ملک حاجی اعجاز حسین سٹھار کو بھی سلامت رکھے اور اس علمی و ادبی خاندان کو اپنے بزرگوں کی روایات کے مطابق علم و ادب اور سماجی خدمت کا یہ سفر جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!