*اسلام میں رہبانیت کی نفی اور وقت کے تقاضے: علمائے کرام کے نام ایک فکری دعوت*
بدھ 07 اکتوبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
مقدّمہ
دینِ اسلام کوئی محدود یا جامد نظریہ نہیں بلکہ ایک آفاقی اور زندہ ضابطہ حیات ہے جو انسان کی مادی اور روحانی دونوں ضرورتوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: “لا رهبانية في الإسلام” (اسلام میں رہبانیت یعنی دنیا سے کٹ کر جنگلوں یا خانقاہوں میں بیٹھ جانے کی کوئی گنجائش نہیں)۔ اس فرمان کے باوجود، آج ہمارے معاشرے بالخصوص دینی طبقے کا ایک بڑا حصہ عملی طور پر اسی رہبانیت کا شکار نظر آتا ہے۔ وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی، لیکن ہمارا دینی طبقہ اور نظامِ تعلیم آج بھی صدیوں پرانے خول میں بند ہے۔
دینی نظام میں فکری جمود اور عصری علوم سے دوری
برصغیر کی تاریخ میں جب حالات نے پلٹا کھایا، تو روایتی مدارس نے اپنی بقا کے لیے جو حفاظتی قلعے بنائے تھے، وہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک مستقل دیوار بن گئے۔ یہ بات انتہائی دردناک ہے کہ دینی مدارس کے ایک بڑے حصے نے خود کو جدید سائنسی علوم، ٹیکنالوجی اور فکری ترقی سے کاٹ لیا ہے۔ آج بھی ہمارے ہاں یہ تصور عام ہے کہ دین پڑھنے کا مطلب صرف چند ابتدائی کتابیں یا چند مخصوص مسائل حفظ کر لینا ہے۔ قرآن مجید جو کائنات میں غور و فکر کرنے، مشاہدہ کرنے اور عقل کو بیدار کرنے کی دعوت دیتا ہے، اسے محض چند رسم و رواج یا مخصوص عبادات تک محدود کر دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دنیا ترقی کی معراج پر ہے اور ہم فکری پسماندگی کا شکار ہیں۔
خواتین کی تعلیم اور تضادِ روزگار:
اس فکری تنگی کا سب سے بھیانک اور دردناک پہلو ہمارے معاشرے کا وہ دوہرا معیار ہے جو خواتین کی تعلیم کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔ دینی گھرانوں اور طبقوں میں اکثر لڑکیوں کو جدید اعلیٰ تعلیم (خصوصاً یونیورسٹی کی سطح پر) دلانے سے گریز کیا جاتا ہے، یہ سوچ کر کہ شاید اس سے دینی اقدار متاثر ہوتی ہیں۔
مگر غور طلب مقام یہ ہے کہ جب زندگی کی حقیقتیں سامنے آتی ہیں اور معاشرے میں طبی بحران پیدا ہوتے ہیں—مثلاً زچگی اور ڈیلیوری کے پیچیدہ کیسز—تو یہی قدامت پسند لوگ اپنی خواتین کا علاج کرانے کے لیے مجبوراً مرد ڈاکٹروں کے آگے بے بس ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے کہ ہم اپنی بچیوں کو ڈاکٹر، سائنسدان یا ماہرِ تعلیم نہیں بننے دیتے، اور پھر مجبوری کے عالم میں انہیں غیر مردوں کے سامنے جانے پر چھوڑ دیتے ہیں؟ اگر وقت پر ہماری خواتین کو عصری علوم اور میڈیکل سائنس کے زیور سے آراستہ کیا جاتا، تو آج امت کو اس شرمناک اور مجبور کن صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
سائنس، منطق اور مذہب کی ہم آہنگی:
اللہ تعالیٰ کی یہ وسیع کائنات کسی اتفاق یا بے ڈھنگے پن کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک انتہائی منظم، سائنسی اور منطقی نظام ہے۔ اسلام نے کبھی عقل یا علم کی مخالفت نہیں کی، لیکن ہمارے علماء نے اپنی کم علمی یا فکری تنگی کی وجہ سے سائنس اور عقل کو اپنا دشمن سمجھ لیا۔ ہارون یحییٰ اور اس نوعیت کے دیگر مفکرین نے جب قرآن اور سائنس کو مربوط کرنے کی کوشش کی، تو یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ دینی تعلیم اور جدید سائنسی علوم میں کوئی خلیج نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کائنات کے ان قوانین کو سمجھیں جو اللہ نے اس دنیا میں بنائے ہیں۔
علماء کے لیے مشاورتی لائحہ عمل:
اس تمام صورت حال کا تقاضا ہے کہ ہمارے علمائے کرام اور دینی ادارے اپنی روش پر نظرثانی کریں اور درج ذیل اقدامات اٹھائیں:
* عصری علوم کا انضمام: دینی مدارس کے نصاب میں جدید سائنس، فلسفہ، معاشیات مصنوئی ذھانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو لازمی شامل کیا جائے تاکہ طلباء جدید دنیا کے چیلنجز کا سامنا کر سکیں۔
* عربی زبان کا فروغ:
قرآن کو ترجمے اور تفہیم کے ساتھ عام کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں عربی زبان کا بنیادی فہم لازمی بنایا جائے۔
* خواتین کی اعلیٰ تعلیم: خواتین کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر عصری شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ امت کو غیروں کا محتاج نہ رہناپڑے۔
* جمود سے آزادی:
زہد کے نام پر دنیا سے فرار ہونے کی روش کو چھوڑ کر اسلام کے اس اصول کو اپنایا جائے کہ مسلمان دنیا کا لیڈر اور فکری پیشوا بن سکتا ہے۔
اختتام
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ امتِ مسلمہ دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے، تو ہمیں “رہبانیت” اور فرار کی زندگی کو خیرباد کہنا ہوگا۔ علماء کو چاہیے کہ وہ وقت کے امام بنیں، امت کی درست رہنمائی کریں اور عقل، سائنس اور دین کو ایک پیج پر لے کر آئیں، تاکہ آنے والی نسلیں فکری اور سائنسی لحاظ سے دنیا کی امامت کر سکیں۔
الدعاَء
یا اللہ تعالی امت مسلمہ کو اس کی کھوئی ہوئی میراث
لوٹا دے۔
دین اور دنیا کسی کی میراث نہیں ہے جو جتنی محنت کرے گا اتنی معراج پا لے گا۔
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com
Cell:00923008604333