26

*آپ سب اسٹبلشمنٹ سے پوشیدہ نہیں*

*آپ سب اسٹبلشمنٹ سے پوشیدہ نہیں*
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف اور سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے کراچی بھر میں بے امنی، عدم تحفظ، لاقانونیت، بے حیائی، غنڈہ گردی، عدم انصاف، اور لینڈ مافیاء کے بڑھتے جرائم و کرائم، ٹارگٹ کلنگ، ڈکیتیاں اور مجرموں کے راج پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسٹبلشمنٹ سے کہا ھے کہ آپ سب اسٹبلشمنٹ کے ذمہداران کو رب العزت کی بارگاہ میں پیش ہونا ھے ظاہر ھے بحیثیت انسان آپ سب سے بھی غلطی ہوسکتی ہیں آپ اپنی غلطی میں ایکبار نہیں بلکہ بار بار وہی غلط فارمولا آزماتے رہے جو ملک و قوم اور ریاست کیلئے ناسور ثابت ہوا وہ ھے *”جمہوری نظام“*۔ یاد رھے کہ اگر سنہ ستر کے بعد کی دھائی سے لے لیں تو ایک جنرل نے تقریباً گیارہ سال تو دوسرے نے تقریباً آٹھ سال برسرِ اقتدار رھے لیکن اس ملک سے *”نظامِ جمہوریت “* کا خاتمہ اور نیا نظام متعارف نہیں کرایا حاصل نتیجہ آج آپ سب کے سامنے ھے۔ دوسرے جنرل کے بعد ان سیاستدانوں کو ایسے کھلی چھٹی ملی کہ جمہوری نظام کے ذریعے پارلیمینٹ میں صرف اور صرف جاگیردار، زمیندار، سرمایہ کار، صنعت کار، اوباش، غنڈے، منشیات فروش، اور اسمگلرز بھی ایوان میں حاوی اور قابض ہوگئے، آپ کے پاس ہر ایک کی فائل موجود ھے اور آپ سب کے کرتوت سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ آج تک اس ریاست میں ایک عام شہری اپنی اہلیت، قابلیت، ذہانت، ایمانداری، دیانتداری، اور مخلصانہ خدمات دینے سے قاصر ہی رھا اس کی وجہ جمہوری نظام کا انتخابی عمل بھی ھے جو مکمل ناکام اور جانبدار ھے یہی سبب ھے کہ آج تک کسی عام شہری کو پارلیمینٹ تو درکنار ایک کونسلر کی سیٹ بھی نہیں مل سکی جبتک کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کا آلہ کار یا سرگرم کارکن بن نہ سکے یا پھر بھاری رقم دیکر ٹکٹ حاصل نہ کرے اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ سیاسی جماعتیں انکا اصل مقصد اور انکا اصل چہرہ کیا ھے۔ آپ سب اسٹبلشمنٹ کے عہدیداران سے پوشیدہ نہیں۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا تجارتی حب اور محصولیات کا ذریعہ بھی ھے لیکن آپکی مسلسل عدم دلچسپی اور غفلت کے سبب جو صورتحال اس شہر کی بن چکی ھے اس سے پوری دنیا واقف ھے، سندھ سرکار کے جھوٹ سے سچ کو دبایا نہیں جاسکتا۔ آپ نے ایک طویل عرصہ سے سندھ کے جاگیرداروں، زمینداروں، وڈیروں کو سندھ تباہ و برباد کرنے کیلئے تمام تر راہیں ہموار کیں اور مواقع فراہم کئے۔ آج 18، 19 سال سے متواتر انہیں سندھ حکومت سونپی۔ ہر شعبہ، ہر وزارت، اور ہر محکمہ میں نیچے سے اوپر اور ہر کمان و سربراہی پر بٹھایا مگر دیکھ لیجئے کہ کراچی کا کیا حال بنادیا ھے ان ظالموں نے۔ گویا اس قدر کراچی شہر سے غفلت برتے ہیں کہ یہاں پر موجود ہر قوم ان ظالموں کے ظلم و بربریت کے ہاتھوں شکار ہے، خدا کی قسم آپ سب ذمہداران اسٹبلشمنٹ اللہ و رسول کیساتھ ساتھ کراچی کے مکینوں کے بھی گناہگار ہیں کہ آپ نے ابتک کراچی کو آزاد خودمختار وفاق کے تحت شہر نہیں بنایا۔ یاد رکھئے کراچی کی کمان اور انتظام سنبھالنے کیلئے سی ایس ایس اور آئی ایس ایس بی کی طرز پر شفاف اور سخت ترین نگرانی میں امتحان کے ذریعے بناء دباؤ، بناء شفارش کے منتخب کیا جائے تاکہ اہل، قابل، دیانتدار، دیندار، سچے، اور مخلص نوجوانوں کا انتخاب ممکن ھوسکے۔ اگر کراچی کو بچانا ھے تو اس شہر کراچی میں نیا نظام رائج کرنا ہوگا جو حقیقی معنوں میں سچائی، ایمانداری، دیانتداری، اور خلوص نیک پر مبنی خدمات سے سرشار ہو۔ جہاں ٹیکس کا بدل بہترین بنیادی سہولیات کیساتھ سستا معیاری بھی ھو، جہاں یوٹیلیٹی بجلی گیس، پانی، ٹیلیفون اور ٹرانسپورٹ ہر وقت، بروقت سستی اور معیاری مل سکیں تاکہ دنیا بھر کے تاجر و سرمایہ کار اور ماہر اس شہر کی طرف رخ کرسکیں۔ ان ظالم موجودہ اندرون سندھ کے سیاستدانوں سے امید لگانا کفر ہوگا ان کیلئے یہی ھے کہ انہیں وہیں حکومت دیں جہاں سے وہ آئے ہیں تاکہ انکے لوگوں کو بھی انکی وحشیانہ و ظالمانہ عادتوں اور حرکتوں کا علم ہوسکے۔ خدا کیلئے اب تمام کے تمام سیاستدانوں سے جان چھڑائی جائے اس ملک کی بقاء کیلئے کیونکہ یہ انتہاء کے منافق، جھوٹے، مکار و عیار اور دھوکہ باز ہیں ان سیاستدانوں سے اچھے کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ کراچی شہر تقریباً پانچ کروڑ کی نفوس آبادی پر مشتمل ہے جو پاکستان کا سب سے بڑا گنجان آبادی والا شہر ھے۔ اس شہر میں ہر قوم، ہر قبیلہ، ہر نسل اور ہر علاقہ و طبقہ کے لوگ رہتے ہیں۔ کیا اس تعداد میں کراچی کا ڈومیسائل، پی آر سی اور شناختی کارڈ رکھنے والے اہل، قابل، ایماندار، دیانتدار، سچے، مخلص اور خدمتگار نوجوان نہیں دیکھتے یقیناً آپ کو بیشمار لا تعداد اس شرائط پر اترنے والے نوجوانوں کی بہتات نظر آئیگی۔ نیکی اور اللہ کی رضا کے خاطر اب اقدام اٹھائیں اور وقت ضائع کئے بغیر *”آزاد خودمختار کراچی“* کا نوٹیفیکیشن جاری فرمادیں جو وفاق کے تحت کام کرے۔ کراچی کی انتظامی امور ھو یا گورنری شپ ہر منصب کیلئے مقابلے کا امتحان لازمی رکھا جائے تاکہ سیاست سے پاک منتظم اپنی قابلیت، اہلیت، دیانتداری، ایمانداری، سچائی اور نیک نیتی سے شہر اور شہریوں کی بہترین خدمات پیش کرسکے۔ قانون اور احتساب کو بھرپور اختیارات سے آراستہ کیا جائے تاکہ چیک اینڈ بیلنس کا عمل بھی ساتھ ساتھ ھو۔ جرم پر فوری سزا اور ایمانداری پر بھی فوری جزا و انعام تاکہ مجرائم کو راستہ میسر نہ ہو اور جزا و انعام سے حوصلہ افزائی کا عمل رھے۔ یہی ہمارا دین محمدی ﷺ بھی سیکھاتا ھے۔ آخر میں ریاست پاکستان اور پاکستانی عوام کی خوشحالی و ترقی کیلئے یہ کہنا چاہتا ھوں کہ پارلیمنٹ سمیت اعلیٰ ترین مبصب کیلئے اب انتخابات نہیں بلکہ مقابلے کا امتحان سے گزارا جائے اور ساتھ ساتھ کردار کی باریک بینی سے تحقیقی رپورٹ بھی شامل رکھی جائے تاکہ ملکی و قومی خذانہ محفوظ ہاتھوں میں رھے۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں