*کراچی میں پیش آیا انتہائی لرزہ خیز واقعہ، خدارا والدین خواب غفلت سے جاگ جائیں*
تصویر میں نظر آنے والی بد نصیب بچی زونیشہ ہے جس کی عمر تین سال ہے ۔۔۔
جبکہ دائیں جانب اس کے والد ہیں اور بائیں جانب ایک فلاحی ورکر جو کہ انٹرویو لے رہی ہے ۔۔۔
اور زونیشہ کا والد اسے بتا رہا ہے کہ زونیشہ اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ اپنے نانا کے گھر گئی تھی اور شام کو جب میں انہیں لینے اپنے سسرال پہنچا تو اس کی ماں اسے نہلا رہی تھی اور یہ زور زور سے رو رہی تھی تو میں یہ سمجھا کہ شاید زبردستی نہلانے کی وجہ سے رو رہی ہے ۔۔
دس سے پندرہ منٹ بعد جب اسے باہر لائی تو مجھے بچی کے پاوں پر خون کا نشان نظر آیا ۔۔
میں نے گھبرا کر اسے بتایا تو اس کی سوتیلی ماں کہنے لگی کہ کچھ نہیں ہے، چھوٹا موٹا زخم ہے لیکن خون کے قطرے اور تیزی سے بہنے لگے اور مجھے تشویش لاحق ہو گئی ۔۔
میں نے اس سے بچی کو لیا اور کہا کہ میں اسے ہسپتال لے کر جا رہا ہوں ۔۔ جب میں اورنگی ٹاون کے نجی ہسپتال پہنچا تو ڈاکٹرز نے مجھے کہا کہ اسے فوری کسی بڑے ہسپتال لے جاو تو میں بچی کو عباسی شہید ہسپتال لے گیا۔
عباسی شہید ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر نے بچی کو چیک کیا تو آکر مجھ سے چیختے ہوئے کہا کہ تم نے بچی کے ساتھ کیا کیا ہے؟ یہ پولیس کیس ہے ۔۔
وہ بتاتا ہے کہ مجھے اس وقت تک بھی سمجھ نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے؟ لیکن پیچھے سے فوری دوسرا ڈاکٹر آیا اور اس نے کہا کہ بچی کو فوری ایمرجنسی میں جناح ہاسپٹل ریفر کرو یہ بچ سکتی ہے ۔۔۔
تو میں ایمبولینس کے ذریعے بچی کو جناح ہسپتال لے آیا اور یہاں آکر مجھے معلوم ہوا کہ میری بچی کے ساتھ انتہائی بہیمانہ طریقے سے زیادتی کی گئی تھی ۔۔
اتنی دیر میں ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع کر دی تھی اور پولیس بھی پہنچ گئی جنہیں میں نے ساری بات شروع سے آخر تک بتا دی ۔۔
پولیس نے سوتیلی ماں کے گھر چھاپہ مار کر بچی کے سوتیلے ماموں اور سوتیلے نانا کو گرفتار کر لیا جب کہ بچی کی سوتیلی ماں مفرور ہو گئی ۔۔۔
دوران تفتیش سوتیلے ماموں اور سوتیلے نانا دونوں نے بچی سے زیادتی کا اعتراف کرلیا اور سوتیلی ماں کے ملوث ہونے کا بھی بتایا ۔۔۔
اب یہ بچی ہسپتال میں زیر علاج ہے لیکن اسے پیشاب کے لئے بیگ لگایا گیا ہے، کیونکہ اس کا سارا نظام ختم یو چکا ہے اور وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے جبکہ ماموں اور نانا دونوں جیل میں ہیں اور ماں نے ضمانت کروا رکھی ہے جبکہ ان تینوں پر ایف آئی آر درج ہے ۔۔
خدارا! اپنی بچیوں کا خیال رکھیں اور اپنے ارد گرد کے ماحول پر بھی نظر رکھیں۔ اب یہ معاشرہ بھروسے کے لائق نہیں رہا اور اس ننھی بچی کی صحتیابی کے لئے بھی دعا کریں ۔۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔۔۔









