سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے)ریڈیو پاکستان سرگودھا ایف ایم 101 سے یوم اقبال پر خصوصی پروگرام نشر کیا گیا
اس پروگرام کی میزبان سینئر براڈ کاسٹر منزہ انور گوئیندی تھیں جبکہممتاز سکالر ابرار حسین نے افکار اقبال پر بہترین گفتگو پیش کی ۔
ریڈیو پاکستان ایف ایم 101کے پروگرام ادب نامہ
میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری ، ان کی فکری گہرائی ، فلسفہ خودی اور ملی بیداری کے حوالے سے گفتگو نشر کی گئی .
پروگرام ادب نامہ میں ممتاز دانشور اور ماہر تعلیم ابرار حسین نے یوم علامہ اقبال کی نسبت سے اپنی گفتگو میں علامہ کی شاعری کے مختلف گوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کی شاعری کو سمجھنے کے لیے ابھی صدیاں درکار ہیں اور جب تک علامہ کی آرزو کو نہ سمجھا جائے تب تک ان کے پیغام کی گہرائی کو ماپنا مشکل ہے اقبال مجموعی طور پر مینارہ نور کی حیثیت رکھتے ہیں جن سے اکتساب فیض حاصل کرنے والوں کا حلقہ نہایت وسیع ہے اور انہیں بجا طور پہ مجدد اور عہد آفریں شاعر تسلیم کیا گیا ہے ان پر بہت کچھ لکھا گیا لیکن اس کے باوجود اقبال کی شاعری کے کئی پہلو غور طلب ہیں .
اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں مسخر نہیں واللہ نہیں ہے
کے مصداق اقبال کے فارسی اور اردو کلام کی کئی پرتوں کو جاننے کے لیے جس عرق ریزی کی ضرورت ہے ابھی باقی ہے ۔ ان کے افکار کی عمیق گہرائیوں تک رسائی کے لیے قلب صمیم کی ریاضت درکار ہے انہوں اپنی شاعری میں جو باتیں علامتی انداز میں بیان کی ہیں ان کی وسعت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان کی آرزو کو اپنی آرزو بنا لیا جائے .
اُٹھائے کچھ ورق لالے نے ، کچھ نرگس نے کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے داستاں میری
اپنے اس شعر میں اقبال نے اسی طرف اشارہ کیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ
علامہ محمد اقبال نے اپنی شاعری کو بس پیغام تک محدود رکھنے کو نہیں بلکہ عملی طور پہ زندگی میں شامل کرنے کی آرزو کی تھی اسی لیے انہوں نے کہا :
میری نوائے پریشانی کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم راز درون میخانہ
ابرار حسین نے ریڈیو پروگرام میں علامہ اقبال کی شاعری پر نہایت عمدہ گفتگو کی جسے سننے والوں نے بےحد پسند کیا۔ اس پروگرام کی پروڈیوسر فریحہ کنول تھیں جب کہ سٹوڈیو انجینئر نعمان شفیق تھے۔