سکھر روہڑی میں میرانی برادری کا احتجاج: پولیس و وکیل پر تشدد اور زیادتی کے الزامات، ایک نوجوان کی مبینہ تشدد سے ہلاکت کا دعویٰ
سکھر (بیورورپورٹ)سکھر کے علاقے روہڑی میں پیر مراد شاہ پھاٹک کے قریب رہائش پذیر میرانی برادری کے افراد نے روہڑی پولیس اور ایک مقامی بااثر وکیل کے خلاف مبینہ ظلم و زیادتی، جھوٹے مقدمات اور حراساں کرنے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پولیس اور وکیل کے خلاف بھرپور نعرہ بازی کی اور اپنے نوجوان ایاز میرانی کی مبینہ طور پر تشدد کے نتیجے میں ہونے والی موت پر غم و غصے کا اظہار کیا۔احتجاجی مظاہرے میں شامل افراد میں سونو میرانی (ولید مرحوم ایاز میرانی)، گل بانو بیگم (اہلیہ ایاز میرانی)، مسمات شہناز، پرویز میرانی، خادم میرانی، ریاض میرانی، اور مائی گلاں (والدہ ایاز میرانی) نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تفصیلی الزامات عائد کیے۔مظاہرین کے مطابق، روہڑی کے وکیل فیصل شیخ نے ایک شخص معشوق بھٹو (جس کی ٹانگ میں راڈ لگی ہوئی ہے) کو ورغلایا کہ وہ ان کے آفس اور چیمبر کی صفائی ستھرائی کا کام کرے اور اس کے بدلے میں وہ اس کی ٹانگ کا آپریشن بھی کروا دیں گے۔ معشوق بھٹو لالچ میں آ کر وکیل کے پاس کام کرنے لگا، لیکن کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد نہ تو اسے تنخواہ دی گئی اور نہ ہی آپریشن کروایا گیا۔جب معشوق بھٹو کے بہنوئی ایاز میرانی (پیشے سے رکشہ ڈرائیور) نے اسے وکیل کے پاس کام کرنے سے منع کیا تو مبینہ طور پر وکیل نے ایاز میرانی اور معشوق بھٹو کو حراساں کرنا شروع کر دیا اور دونوں پر چوری کا جھوٹا مقدمہ روہڑی تھانے میں درج کروا دیا۔سونو میرانی نے الزام عائد کیا کہ معشوق بھٹو اور ایاز میرانی نے وکیل کی کوئی چوری نہیں کی، بلکہ صرف کام کرنے سے انکار کرنے پر انتقاماً یہ مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی ملی بھگت سے وکیل نے معشوق بھٹو کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر چوری کرنے کی ہامی بھرائی اور عدالت میں پیش کر کے اسے جیل بھیج دیا گیا۔ایاز میرانی کے حوالے سے مظاہرین نے بتایا کہ جب وہ روزی روٹی کما کر گھر واپس آ رہے تھے تو پولیس اور وکیل کے غنڈے ان کے پیچھے لگ گئے۔ گھر پہنچتے ہی انہیں دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے دیے گئے تشدد اور مسلسل حراساں کیے جانے کے باعث ایاز میرانی کی موت واقع ہوئی۔احتجاج کرنے والوں نے چیف جسٹس پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا کہ:· اس معاملے کی مکمل، شفاف اور آزادانہ انکوائری کروائی جائے۔· جو بھی ملوث افراد ہوں، انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔· معشوق بھٹو کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔· متاثرہ خاندان کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبے نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔