اسلام آباد ٹاکس آگے بڑھ رہی ہیں ۔ ان کی صورت تبدیل ہو رہی ہے ۔ ایران نے پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کو مذاکرات کی سربراہی سے ہٹا کر وزیر خارجہ عباس عراقچی کو آگے کر دیا ہے ۔ اپنا مذاکراتی وفد تھوڑا لو پروفائل کر دیا ہے ۔
عباس عراقچی نے امریکی ٹیم سے ملاقات سے گریز کیا ہے ۔ وجہ سمجھ آتی ہے کہ ایران اپنے سخت موقف کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرو گے تو بات ہو گی سے پیچھے ہٹا ہے ۔
نئی ایرانی تجاویز کی بات ہو رہی ہے ۔ مسقط کا دورہ اہم ہے ، ممکنہ طور پر اس کا تعلق ایران کے یورینیم سٹاک سے ہے جو وہ امریکہ کی بجائے کسی مسلمان ملک کو حوالے کرنا چاہتا ہے ، اور پاکستانی یہ اڑتا تیر کسی صورت نہیں لیں گے ۔ سٹاک لے کر عالمی انسپکٹر کو اپنے ہاں پھیروں پر لگا دیں ، اتنے بھی سیدھے نہیں ہم ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امریکہ پابندیوں کو ختم کرنے کے بدلے ایران کے انرجی سیکٹر پر کنٹرول یا شئر چاہتا ہے ۔ ایرانی انرجی کا سب سے بڑا گاہک چین ہے ۔ اس کی پبلک سٹیٹمنٹ ہرمز کھولنے کے لیے آتی رہی ہیں جو نرم ہونے کے باوجود ایران مخالف تھیں ۔
آئڈیا یہ لگتا ہے کہ ایرانی تیل پاکستان پہنچے اور یہاں سے چین لے جائے ۔ امریکہ کو راضی کرنا ہو گا ۔ پچھلے سال چین ایران سے رعایتی قیمت پر 55 ڈالر بیرل کے حساب سے تیل خریدتا رہا ہے جب مارکیٹ ستر اسی کے درمیان گھوم رہی تھی ۔
اب نہ 55 والا ریٹ ممکن ہے اور نہ ستر اسی والا ، کوئی ایسا قابل قبول ریٹ جو ایران امریکہ چین سب کو مطمئین کر دے تو بریک تھرو ہو جائے گا ۔ ہمارا بھی اس میں فائدہ ہو گا ۔
سیز فائر قائم ہے ، ناکہ بندی بھی جاری ہے ، سفارتکاری بھی لائن پر آ گئی ہے تو امید برقرار رکھ لینا بہتر ہے ۔
البتہ پاکستانی کردار متعلق شریکوں نے ہلکی پھلکی ڈھولکی بجانی شروع کر دی ہے ، وہ بھی جائز ہے کہ شریک اسی لیے ہوتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کچھ ڈاٹس ملائے ہیں ، کچھ اندازہ ہے کچھ انفارمیشن ہے جو اوپن سورس ہے ۔ خواہش ظاہر ہے امن کی ہی ہے ۔ آپ اپنا حساب کتاب خود لگا لیں اور کراس چیک کر لیں۔