*موت سے پہلے خود احتسابی:ایک پیغام ربانی*
منگل 31 مارچ 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
اے انسان!
کیا تم نے کبھی غور کیا کہ تمہاری زندگی کے ہر لمحے کا حساب دینا ہے؟ اللہ رب العزت فرماتا ہے:
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
“کوئی جان کسی اور کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔”
(سورۃ الانعام: 164)
ہر نفس اپنے اعمال کے لیے ذمہ دار ہے۔ نہ کوئی تمہارے لیے عذاب کا بوجھ اٹھائے گا، نہ کوئی تمہارے نیک اعمال کا کریڈٹ لے سکے گا۔
1.اعمال کا حساب اور آخرت کی حقیقت
یہ دنیا محض عارضی ہے۔ ہر شخص کو اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا ملے گی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ
“اس دن جو چھپایا ہوا ہے، ظاہر کر دیا جائے گا۔(طہ: 7)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
“تم سب چرواہے ہو اور تم سب سے اپنے ریوڑ کا حساب لیا جائے گا۔”( البخاری: 893)
اپنی زندگی کے ہر لمحے کو سمجھو۔ جو کچھ تم نے کر لیا، اس کا حساب تمہیں ہی دینا ہوگا۔ نہ کوئی مدد کرے گا، نہ کوئی گناہ کے اثرات مٹا سکے گا۔
2.دنیاوی مال و ایصال ثواب کی حقیقت
زندگی کے وقت کو صرف لواحقین کے لیے مال جمع کرنے یا ایصال ثواب کے لیے ضائع نہ کرو۔ دنیاوی مال اور خوشیاں عارضی ہیں، اور حرام کی کمائی تمہیں اللہ کے حضور نہیں بچا پائے گی۔ وَلاَ تَتَّبِعُوا أَنفُسَكُمْ أَهْوَاءً فَتُضِلُّوكُمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
“اپنی خواہشات کے پیچھے نہ بھاگو کہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گا۔”(الانعام: 153)
تمہارے لواحقین شاید دنیا میں خوش ہوں، مگر تم اللہ کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دو گے۔ یہ حقیقت کی تلخ پہچان ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جب ہر انسان کو سمجھ آتا ہے کہ دنیا فانی ہے اور آخرت لازمی ہے۔
3.غفلت کی نیند سے جاگو
اے مخاطب! جو وقت گزر چکا، وہ واپس نہیں آئے گا۔ لیکن اپنی سابقہ غلطیوں پر سچی توبہ کر لو اور اپنے آئندہ کے اعمال قرآن و سنت کے مطابق ڈھالو۔
رسول ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
“جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ یا تو بھلا کہے یا خاموش رہے۔”
(صحیح البخاری: 6136)
یہ دنیاوی باتوں میں الجھنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنے نفس کا جائزہ لے اور ہر لمحے کو قیمتی بنائے۔
4۔موت کی حقیقت اور نزع کا لمحہ
موت کا وقت کسی کے اختیار میں نہیں۔ ہر نفس کو اپنی موت اور حساب کا لمحہ آئے گا۔ قرآن فرماتا ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
“ہر نفس موت کا مزہ چکھے گی۔”(سورۃ آل عمران: 185)
اور نبی ﷺ نے فرمایا:
أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ
“لذتیں فنا کرنے والے کی یاد کو کثرت سے یاد کرو۔”
(سنن الترمذی: 2304)
یہی لمحہ ہے جب انسان کی روح رب کے حضور پیش ہوگی۔ تب یہ دنیاوی لذتیں کچھ کام نہ آئیں گی۔
5.فرصت اور زاد راہ
زندگی کے لمحے قیمتی ہیں۔ انہیں ضائع مت کرو۔ زاد راہ جمع کرو تاکہ روح مطمئنہ کی حالت میں اللہ کے حضور پیش ہو۔ قرآن فرماتا ہے:
فَاسْتَعِدُّوا لِلِّقَاءِ رَبِّكُمْ وَاعْمَلُوا لِلْآخِرَةِ أَعْمَالًا صَالِحَةً
“اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہو جاؤ اور آخرت کے لیے نیک اعمال کرو۔”(الحشر: 18
اپنے اعمال کا خود احتساب کر لو۔ آج کا لمحہ، آج کی فرصت—یہ دوبارہ نہیں آئے گی۔
6.توبہ اور اصلاح کا پیغام
اگر تم نے سابقہ غلطیاں کی ہیں، تو سچی توبہ کرو۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَمْ يَذْنِبْ
“جو شخص گناہ سے توبہ کرتا ہے، گویا اس نے کبھی گناہ نہیں کیا۔”
(سنن النسائی: 2236)
یہی لمحہ ہے جب انسان اپنے ضمیر کو جاگتا دیکھے اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالے۔
7.خلاصہ: انسان کی حقیقی کامیابی
زندگی کے لمحے غنیمت جانو۔ ہر نفس اپنے اعمال کا جواب دینے والا ہے۔ دنیاوی لذتیں عارضی ہیں، اور اصل مقام اللہ کے حضور ہے۔
وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ
“اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو، جس کا وسعت آسمان اور زمین کے برابر ہے۔”(آل عمران: 133)
اب وقت ہے کہ اپنی زندگی کے خزانے جمع کرو، اپنے اعمال کو سنوارو اور رب کے حضور خوش و راضی ہو کر پیش ہو۔ تبھی کامیابی ہے، ورنہ ہر نفس جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔
الدعاء
یا اللہ تعالی میں تیرا احقر العباد اپنی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے تیرا ممنون و مشکور ہوں کہ تو نے مجھے یہ زندگی عطا فرمائی اور میرے اعمال میں اگر مجھ سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو مجھے معاف فرمانا۔
آمین یا رب العالمین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333